خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 772
خطبات ناصر جلد دوم ۷۷۲ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے اخلاقی قو تیں تو بہت عطا کی تھیں لیکن یہ اخلاقی قوتیں جن اصولوں سے اور جس ماحول میں پرورش پاتی ہیں اور اپنے کمال کو حاصل کیا کرتی ہیں تو نے وہ ماحول نہیں پیدا کیا، وہ حالات نہیں پیدا کئے۔اس لئے میری اخلاقی قوتیں اپنی نشوونما کی جد و جہد ہی میں ہلاک ہو گئیں اور اپنے نقطۂ عروج کو نہیں پاسکیں۔اسی طرح کوئی شخص یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اے خدا! تو نے مجھے روحانی قوتوں سے تو وافر حصہ عطا فرمایا تھا لیکن تو نے روحانی رفعتوں کے حصول کے سامان مہیا نہیں فرمائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور یہی سچ ہے اور اللہ ہی حق ہے کہ میں نے رب العلمین کی حیثیت سے تمام قوتوں کو پیدا کیا اور ساتھ ہی ان کی نشوونما کے لئے جس جس چیز کی ضرورت و احتیاج تھی میں نے وہ بھی پیدا کر دی ہے اگر کسی شخص کی ضرورت پوری نہیں ہوئی تو وہ مظلوم ہے اور اس کے ماحول میں کوئی ظالم ہے جس کی وجہ سے اسے اپنا حق نہیں مل سکا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر میں چاہتا تو جس طرح میں نے ہرن کو قوت اور طاقت دی اور اس کی قوت اور طاقت کی نشو و نما کے سامان پیدا کئے اور وہ اس کو مل بھی گئے اس کو کوئی منصوبہ نہیں بنانا پڑا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسی طرح میں تمہارے ساتھ بھی کر سکتا تھا انسانی جسم کے لئے جس قسم کی غذاؤں کی ضرورت تھی وہ اسے بھی جانوروں کی طرح میسر آجاتیں اگر آپ کی آنکھیں ہیں یعنی السبع “ کے معنوں میں آنکھیں رکھتے ہیں اور آپ کو جنگل میں جانے کا اتفاق ہو تو آپ دیکھیں گے کہ بھیڑ بکریاں اکٹھی ایک گلے میں چر رہی ہوتی ہیں۔بعض دفعہ بکری ایک بوٹی کو منہ لگائے گی مگر جلد ہی ناک منہ چڑھاتے ہوئے اسے چھوڑ کر آگے نکل جائے گی کیونکہ یہ غذا اس کے لئے ٹھیک نہیں ہو گی۔اس کے دو منٹ بعد بھیٹر آئے گی وہ اس بوٹی کو سنگھے گی اور پھر بڑی خوشی سے اسے کھانا شروع کر دے گی۔غرض بکری کے لئے جو سامان پیدا کیا ہے اس کی فطرت کے اندر اس کے پہچاننے کی قوت رکھ دی ہے۔وہ غذا اسے خود بخو دمل جاتی ہے خود اس کی فطرت اس کا ڈاکٹر اس کا قائد و رہنما ہوتی ہے اسی طرح بھیڑ سے کہا کہ جو تیری ضرورت ہے وہ تجھے پتہ لگ جائے گی۔شیر کو کہا کہ جو تیری ضرورت ہے اس کا تجھے پتہ لگ جائے گا وغیرہ۔غرض ہر چیز کو اس کی ضرورت کا خود بخود پتہ لگ جاتا ہے۔جانور تو پھر بھی کسی حد تک