خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 771 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 771

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء انسان کے لئے رزق مہیا ہوتا ہے اور یہ دراصل آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے بہت سے جلوؤں میں سے ایک جلوہ ہے۔سورہ سجدہ کی آیہ کریمہ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ میں جو ایک وسیع مضمون بیان ہوا تھا سورۃ یونس کی مندرجہ بالا آیت اس مضمون کے ایک باب کی طرف متوجہ کرتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی تدبیر آسمانوں اور زمین میں کارفرما ہے اور ہمیں اس کے بہت سے جلوے نظر آتے ہیں ان میں سے ایک جلوه يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ کے الفاظ میں پنہاں ہے۔فرمایا اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے نتیجہ میں کائنات عالم میں تمام انسانوں کے لئے رزق کا سامان پیدا کیا جاتا ہے۔رزق کے معنے صرف کھانے کی اشیا کے نہیں ہوتے بلکہ اس لفظ کو ہم ضروریات زندگی کے تمام سامانوں سے تعبیر کر سکتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ کی اس تدبیر کے نتیجہ میں انسانی ضرورتوں کے پورا ہونے کے لئے تمام سامان پیدا ہوئے۔آگے اس کی تقسیم میں دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔یعنی نہ صرف سامان پیدا کئے بلکہ اس پیداوار اور اس عطا کی تقسیم کے لئے بھی ایک بڑا ہی حکیمانہ طریق بتایا۔اقتصادیات میں بھی دو مسائل بڑے اہم ہیں ایک ہے پیداوار کا اور دوسرا ہے اس پیداوار کی تقسیم کا۔ہمارے تمام اقتصادی مسائل انہی دو نقطوں کے گردگھومتے ہیں یعنی ایک چیز کو کتنی مقدار میں کتنے عرصے میں پیدا کیا جائے اور پھر اس کی پیداوار کو کس رنگ میں شہریوں میں تقسیم کیا جائے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے آسمان اور زمین میں تدبیر کی اور اس کے نتیجہ میں انسان کی ہر ضرورت کو پورا کر دیا۔اب کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے جسمانی قوتیں اور طاقتیں تو بڑی عطا کی تھیں لیکن ان کی صحیح نشو ونما اور اس کے کمال تک پہنچانے کے سامان مہیا نہیں کئے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اے خدا! تو نے مجھے ذہن تو بڑا اچھا دیا تھا لیکن تو نے مجھے ایسے سامان نہیں دیئے کہ میں اپنی ذہنی قوتوں کو ان کی نشو و نما کے کمال تک پہنچا سکوں۔میں نے دسویں پاس کی میں آگے پڑھ نہیں سکا۔اے خدا! میں اس لئے نہیں پڑھ سکا کہ تُو نے وہ سامان نہیں پیدا کئے جن سے میں اپنی پڑھائی کو آگے جاری رکھ سکتا۔اسی طرح کوئی شخص