خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 773
خطبات ناصر جلد دوم ۷۷۳ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء احساس رکھتے ہیں نباتات تک کو اپنی ضرورتوں کا پتہ لگ جاتا ہے مثلاً ہر درخت کی جڑوں کو پنپنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے اس کا انہیں پتہ لگ جاتا ہے۔ہمارے ربوہ کی زمین میں شور اور کلر بہت زیادہ ہے اپنے دیگر افراد خاندان کی طرح مجھے بھی درخت لگانے کا بہت شوق ہے درختوں ، پودوں اور پھولوں سے پیار کرنا ہماری طبیعتوں میں رچا ہوا ہے شروع میں جب میں ربوہ منتقل ہوا تو میں نے لاہور سے کئی سو قسم کے پودے لا کر ربوہ میں لگائے لیکن آٹھ دس قسموں کے سوا باقی سب پودے مرجھا گئے۔ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے ہوا کہ یہ نقل مکانی میں نے کی تھی مگر پودوں کو یہ فضار اس نہ آئی وہ مرجھا گئے۔جب میں نے پودا لگا یا تو اس کی جڑوں نے محسوس کیا کہ یہاں کی مٹی میں ہمارے کھانے کی غذائیت نہیں ہے چنانچہ وہ ختم ہو گئے لیکن بعض پودے ایسے بھی تھے جنہوں نے بڑے شوق سے اس مٹی کو پسند کیا اور دنوں مہینوں میں انہوں نے اتنا قد نکالا اور اتنا پھیلاؤ آگیا کہ ہم حیران ہو گئے۔ان میں ایک یوکلپٹس بھی تھا یہ شور زمین کو بہت پسند کرتا ہے۔جس شور اور کلر والی زمین میں اور کوئی درخت نہ اُگ سکتا ہو وہاں یہ بڑی آسانی سے ہو جاتا ہے۔پس نہ صرف جانوروں بلکہ نباتات کے اندر اس کا ڈاکٹر بھی پیدا کر دیا۔اس کا باور چی بھی پیدا کر دیا۔اس کا درزی بھی پیدا کر دیا مثلاً اس کی فطرت میں ہم درزی کا مظاہرہ اس طرح دیکھتے ہیں کہ ایک درخت ہے اس کے پتے چکنے عملی لباس کی خاصیت رکھتے ہیں بارش ہوتی ہے تو ایک سیکنڈ کے لئے پانی کا قطرہ ان پر نہیں ٹھہر تا فوراً پھسل کر نیچے بہ جاتا ہے اس کے مقابلے میں ایک دوسرا درخت ہے جس کے پتوں میں کھدر کے کپڑے کی خاصیت ہوتی ہے بارش کا قطرہ پڑتا ہے تو ان کے اندر جذب ہو جاتا ہے۔پس ہر درخت کے پتوں کا اپنا کام ہے ہر ایک کو جس چیز کی ضرورت تھی اس قسم کا ماہر ڈاکٹر طبیب ، باورچی، درزی وغیرہ سارے کے سارے شعبے خدا تعالیٰ نے اس کے اندر ہی قائم کر دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان سے فرمایا کہ میں نے تیرے ساتھ کسی اور قسم کا معاملہ کرنا ہے۔میں نے درخت کو اس لئے بنایا تھا کہ وہ تیرا خدمت گزار بنے اور تجھے میں نے اس لئے پیدا کیا ہے اور