خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 754
خطبات ناصر جلد دوم ۷۵۴ خطبہ جمعہ ۱۸ / جولائی ۱۹۶۹ء بوجھ ڈالتا ہے تاکہ مزید ذمہ داریوں کے بجالانے کی عادت پڑے۔ہم نے دیکھا کہ نئے احمدی شروع شروع میں کسی کے آوازے کسنے پر ہی گھبرا جاتے ہیں پتہ نہیں کیا ہو جائے گا اس معمولی سی مخالفت پر کہہ دیتے ہیں یہ تو بڑی مصیبت پڑ گئی لیکن پرانے احمدی ماشاء اللہ ۱۹۵۳ء کی آگ میں سے بھی نکل جاتے ہیں وہ ۱۹۶۸ ء کی آگ میں سے بھی گزر جاتے ہیں ان کو اس مصیبت کا احساس تک نہیں ہوتا بلکہ زبر دست سے زبر دست مخالفت کو بھی ہنستے ہوئے برداشت کر لیتے ہیں۔ان کی قوت برداشت کا تو یہ عالم ہے کہ ۱۹۴۷ء کی آگ میں سے بھی ہنستے ہوئے نکل آئے تھے حالانکہ حکومت بھی ظالم اور لوگ بھی خونخوار بنے ہوئے تھے۔سکھوں کو بھی ایک جنون تھا آخری دنوں میں مسجد مبارک کی دیواروں پر قریباً روزانہ ہی گولیاں آکر لگا کرتی تھیں گرمیوں کے دن تھے ہم اوپر بیٹھے قہقہے لگارہے ہوتے تھے کوئی پرواہی نہیں ہوتی تھی کیونکہ قربانیاں دینے سے مخالف حالات کا مقابلہ کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔جب اس قسم کی عادت پیدا ہو جاتی ہے تو خدا تعالیٰ کہتا ہے اور آگے بڑھو میرے اور قریب آجاؤ لیکن بری عادت اس سے اُلٹ سمت میں چل رہی ہوتی ہے یعنی وہ انسان کو خدا تعالیٰ سے دُور سے دُور تر لے جا رہی ہوتی ہے آج آدھ گھنٹہ ضائع کر دیا ریسٹورنٹ میں بیٹھے گپیں لگاتے رہے پھر اور شوق پیدا ہوا پہلے ہفتہ میں ایک دن ضائع کرتے تھے پھر دو دن اور پھر تین دن حتی کہ سارا ہفتہ ہی ضائع کرنا شروع کر دیا۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اس کا نتیجہ بڑا ہی خطرناک نکلتا ہے انسان کی قوتوں کی نشو ونما نہیں ہو پاتی۔انسان خدا تعالیٰ کا پیار کھو دیتا ہے دنیا کی عزت بھی چلی جاتی ہے کیونکہ دنیا کی عزت تو اس شخص کو ملتی ہے جس کو خدا تعالیٰ عزت دینا چا ہے اور وہ اس کے احکام پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہے۔وقت کا ضیاع ایک قومی نقصان ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر سارے پاکستانی اپنی استعداد کے مطابق اقتصادی میدان میں اپنا پورا زور لگا دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہما را معیار زندگی ایک سال کے اندر اندرد گنا تگنا نہ ہو جائے۔پیداوار کے حصول میں خالی ہاتھ یا پاؤں کا کام نہیں ( بعض کام پاؤں سے بھی کئے جاتے ہیں) یا ہتھوڑے کا کام نہیں ہوتا بلکہ عقل کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے مثلاً