خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 638
خطبات ناصر جلد دوم ۶۳۸ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء پچھلے دنوں مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے ایک محلہ کے دکاندار نماز باجماعت کی ادائیگی میں شستی دکھاتے ہیں تو میں نے انہیں بلا کر اس طرف توجہ دلائی اور بعد میں رپورٹیں آنے لگ گئیں کہ اذان ہونے کے بعد فوراًد کا نیں بند ہو جاتی ہیں اور دکاندار مسجد میں چلے جاتے ہیں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا ان میں پھر شستی پیدا ہوگئی ہے اور انہیں دوبارہ یاد دہانی کرانے کی ضرورت پڑی ہے یا بعض نوجوان طالب علم ہیں جن کے متعلق یہ شکایت پیدا ہوئی ہے نوجوانوں کو سہارا کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جس طرح ایک چھوٹا بچہ جب اپنی جسمانی نشونما میں چلنے کے مرحلہ پر پہنچتا ہے تو شروع میں اس کی انگلی پکڑنی پڑتی ہے وہ بار بار گرتا ہے اور بار بار اسے سنبھالنا پڑتا ہے۔اسی طرح روحانی ارتقا میں بھی نوجوان ( اور بعض دفعہ بڑی عمر کے لوگ بھی ) ایک ایسے مقام سے گزرتے ہیں کہ انہیں زیادہ سہارا کی ضرورت پڑتی ہے۔اس مقام سے گزرنے کے بعد وہ روحانی راستہ پر چھلانگیں مارتے ہوئے آگے سے آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں لیکن ایک وقت ان کی زندگی میں ایسا بھی آتا ہے کہ ان کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کی انگلی ہمیں پکڑنی پڑتی ہے اس کے بغیر وہ روحانی میدانوں میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔اہلِ ربوہ کو ایسے موقعوں پر فوراً چوکنا اور بیدار ہو جانا چاہیے اگر مساجد میں آبادی کم نظر آئے تو اس کی وجہ کا علم ہونا چاہیے اور اس نقص کو دُور کرنا چاہیے۔ایک نقص یہ بھی ہے کہ ذمہ دار افسر سمجھتے ہیں کہ دو چار ہفتے رپورٹ دے دینا کافی ہے اور اس کے بعد وہ رپورٹ دینا بند کر دیتے ہیں۔ہمارے مقامی انتظام میں جو منتظم ہیں اور صدر عمومی کہلاتے ہیں ان کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر دو ہفتہ بعد صد رصاحبان کے مشورہ سے ایک رپورٹ دیا کریں کہ کہاں سستی ہے اور کہاں چستی ہے۔مجھے بہر حال اطلاع ملنی چاہیے کہ ربوہ کے مکین دینی کاموں میں کس رفتار کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں کیونکہ اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ڈالی ہے اور یہ بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔اس پندرہ روزہ رپورٹ کے علاوہ ربوہ سے متعلق ایک رپورٹ نظارت امور عامہ کی طرف سے آنی چاہیے ایک رپورٹ نظارت اصلاح و ارشاد کی طرف سے آنی چاہیے اور یہ رپورٹیں دونوں نظارتوں کے اپنے اپنے کاموں کے لحاظ سے ہوں۔مثلاً نظارت امور عامہ کی