خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 639
خطبات ناصر جلد دوم ۶۳۹ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء طرف سے یہ رپورٹ آنی چاہیے یا یوں کہیں کہ ان کی رپورٹ میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس مہینہ میں کتنے لوگ ایسے ربوہ میں رہائش پذیر ہوئے ہیں جن کا جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں۔پھر ایسے جولوگ پہلے سے یہاں رہتے ہیں ان کا کوئی کام ایسا تو نہیں جو ہماری روحانی واخلاقی فضا کو خراب کرنے والا ہو۔ایسے بہت سے خاندان ہیں جو گو جماعت میں شامل نہیں لیکن ہم سے بہت تعلق رکھتے ہیں۔ان کے ہم سے دُنیوی تعلقات ہیں ان میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے بچہ کو چیفس کا لج میں بھی داخل کر سکتے ہیں لیکن وہ یہاں آ جاتے ہیں اور اپنے بچوں کو ہمارے سکول اور کالج میں داخل کراتے ہیں۔بعض دفعہ ان کو رہائش کے لئے مکان بھی کرایہ پر لینا پڑتا ہے۔ان کا جماعت کے دوستوں کے ساتھ ظاہری اور دنیا دارانہ تعلق بڑا اچھا ہوتا ہے اور جماعتی تنظیم کو اچھا سمجھتے ہیں لیکن ان کی اور خصوصاً ان کے نوکروں کی تربیت اس تربیت سے مختلف ہوتی ہے جو عام طور پر ایک احمدی کی ہوتی ہے۔پھر جماعت میں بھی نئے آدمی داخل ہوتے ہیں اور ان کی تربیت پر ایک وقت لگتا ہے گو ایسے دوستوں کے احمدی ہونے پر ۵۔۶ مہینے بھی گزر جائیں تو ان کی ذہنیت بڑی حد تک بدل جاتی ہے اللہ تعالیٰ ان پر فضل کرتا ہے لیکن پھر بھی ان لوگوں کی تربیت ایسی نہیں ہوتی جو ایک پرانے تربیت یافتہ احمدی کی ہوتی پھر وہ جان بوجھ کر نہیں اپنی عادت سے مجبور ہو کر اور عدم تربیت کے نتیجہ میں بہت سی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جنہیں ہم پسند نہیں کرتے اور جن کے نتیجہ میں ربوہ کی با اخلاق فضا پر اچھا اثر نہیں پڑتا۔یہ درست ہے کہ جماعت سے باہر کے خاندانوں کے تعلقات ہمیں اچھے لگتے ہیں اور دنیوی لحاظ سے جتنا ان کو ہم سے تعلق ہے اس سے کہیں زیادہ ہمارا ان کے ساتھ تعلق ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت میں رخنہ پڑے جو احمدیت اور احمدیت کی تربیت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے یعنی اچھا امن پسند شہری ہونا اور مہذب اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والا مسلمان ہونا ہمیں ہر وقت چوکس رہ کر ان چیزوں کو اپنی نظر کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے اس کے بغیر ہماری فضا مکدر ہو جاتی ہے۔ربوہ کے متعلق نظارت امور عامہ کی رپورٹ مستقل حیثیت میں آنی چاہیے اور آپس میں مشورہ کر کے نہیں آنی چاہیے تا کہ میں کسی صحیح