خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 627 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 627

خطبات ناصر جلد دوم ۶۲۷ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء خدا کا حق کیسے ادا کر سکے گا۔پس یہ وہ بنیادی دعا ہے جو ہر مومن مسلمان پر فرض ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے وہ تعلق محبت پیدا ہو جاتا ہے جس تعلق محبت کو پیدا کرنے کے لئے انسان کی پیدائش ہوئی ہے اور وہ ان نعماء کا وارث ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندے کے لئے مقدر ہیں۔سورہ بقرہ کے شروع میں بھی اسی معنے میں يُقِیمُونَ الصَّلوة کا فقرہ استعمال کیا گیا ہے۔غرض عبادت کی روح یہ دعا ہے اس کے بغیر بظا ہر نظر آنے والی عبادت ایک مردہ لاشہ ہے لیکن اگر اس عبادت میں یہ دعا، دعا کی یہ روح پیدا ہو جائے تو پھر وہ زندہ ہے اور زندہ کا تعلق زندہ سے پیدا ہوسکتا ہے۔زندہ روح کا تعلق پھر زندہ خدا سے ہو جائے گا۔پس حقوق اللہ کی ادائیگی میں روح عبادت یہ دعا ہے یہ صلوۃ ہے جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔عبادت کی کچھ ذمہ داریاں حقوق العباد سے تعلق رکھتی ہیں ویسے تو زکوۃ کا سارے ہی حقوق کے ساتھ تعلق ہے۔لیکن نمایاں طور پر براہ راست اس کا تعلق حقوق العباد کے ساتھ نظر آتا ہے۔میں نے بڑا سوچا میرے نزدیک اس کا تعلق ) صرف حقوق العباد کے لئے ہی سمجھنا درست نہیں ہے زکوۃ روح خدمت ہے۔اس دنیا میں حقوق انسانی کی ادائیگی اور نوع انسانی کی جو خدمت ہے اس کے ساتھ اس کا نمایاں طور پر تعلق ہے۔بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلق ہے وہ خدمت سے کچھ مختلف ہے۔محض خادم کا تعلق نہیں بلکہ فانی کا تعلق ہے۔اس وجہ سے وہ چیز وہاں اتنی نمایاں نہیں ہوتی لیکن بہر حال وہاں بھی اس کا تعلق ہے۔ایک دوسرے نقطۂ نگاہ سے گیارہ کی گیارہ باتیں جن کا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ میں ذکر ہے یا اس سے زائد کہیں اور ذکر ہو، ان کی دوسری بنیاد زکوۃ ہے۔یہ وہ زکوۃ نہیں جس کی شرائط پوری ہونے پر چالیسواں حصہ یا بعض لازمی چندوں کے دوسرے مقررہ حصے ادا کئے جاتے ہیں۔زکوۃ کے مختلف معانی ہیں اور بعض آیات قرآنی میں تمام لغوی معنے چسپاں ہو جاتے ہیں اور وہاں ہمیں بڑی لطیف تفسیر ملتی ہے۔اس معنی کی رو سے جو میں سمجھتا ہوں کہ بنیادی حقیقت کا حامل ہے زکوۃ کے معنے یہ ہیں کہ