خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 626
خطبات ناصر جلد دوم ۶۲۶ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں اور یہ کہ کوئی اور وجود اس کی صفات کا ملہ کے کام میں کوئی روک نہیں پیدا کر سکتا۔جب اس کی صفت کا جلوہ ہوتا ہے تو ہر شے جو اس کے مخالف ہوتی ہے وہ ہلاک کر دی جاتی ہے، فنا کر دی جاتی ہے۔پس ایک تو یہ تصور اس روح میں قائم ہوتا ہے اور ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بڑی عظمت و جلال والا ہے اور وہ صفاتِ حسنہ سے متصف ہے اور اس کی یہ صفاتِ حسنہ ہمیشہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں۔اور کوئی اور طاقت اور کوئی اور صفت اور کوئی تدبیر اور حیلہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کے مقابلہ میں کامیاب اور کارگر نہیں ہوسکتا۔دوسرا تصور یہ ہے کہ میں کچھ نہیں۔یہ اپنی ذلت اور نیستی کا تصور ہے۔دراصل عبودیت کا مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔جب تک انسان اس حقیقت پر نہ قائم ہو جائے کہ میں لاشے محض ہوں اور لاشے محض ہونے کے باوجود اس کو کام کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔غرض اپنی ذلت اور نیستی کے ساتھ ہی اس کو یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے گا ( اور اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے ) وہ تائید کرے گا اور اس کی تائید و نصرت حاصل ہوتی ہے اور جب اس کی توفیق اور تائید و نصرت حاصل ہو جائے تو وہ وجود جو لاشے محض ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تائید سے ایسے کاموں کی توفیق پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے ہیں۔ان دو تصورات کے نتیجہ میں وہ حقیقی بنیادی دعا انسان کو حاصل ہو جاتی ہے جس میں تین خاصیتیں ہیں۔یعنی جس کے نتیجہ میں دعا کرنے والے میں تین خاصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور جس کے نتیجہ میں اس محل کی عمارت کھڑی ہوتی ہے جو محل روحانی طور پر اس دنیا میں انسانی جنت کا محل اور اُس دنیا میں جنت کا محل ہوتا ہے۔پس يُقِيمُونَ الصَّلوۃ میں اس نماز کا ذکر نہیں جو ابھی خطبہ کے بعد مثلاً جمعہ کی نماز پڑھیں گے یا پھر مغرب اور عشا۔فجر اور ظہر اور عصر کی نماز ہر روز یہاں پڑھتے ہیں بلکہ اس بنیادی دعا کا تعلق تمام حقوق اللہ سے ہے۔اللہ تعالیٰ کا کوئی حق بھی ادا نہیں ہوسکتا جو اس بنیاد کے اوپر کھڑا نہ ہو۔کیونکہ انسان اگر اپنے کو بھی کچھ سمجھے تو وہ خدا کا حق کیسے ادا کر سکے گا۔اگر وہ غیر اللہ کو کچھ سمجھے تو وہ