خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 628
خطبات ناصر جلد دوم ۶۲۸ خطبہ جمعہ ۹رمئی ۱۹۶۹ء اللہ تعالیٰ ہی کا حق تسلیم کیا جائے اور اسی کو مالک حقیقی سمجھا جائے اور خدا کا جو حق ہے اس کی آگے اس تقسیم میں جو اس نے اپنے کسی بندے کے سپرد کی ہے خدا کے قائم کردہ حق کے مطابق خرچ کیا جائے۔پس زکوۃ کے معنے یہ ہوئے کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ۔مثلاً ہر چیز جو میری ہے یا آپ میں سے ہر ایک کی ہے حقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی ہے۔اور مالک حقیقی کے حکم اور ارشاد کے مطابق اس تمام عطا کا مصرف ہونا چاہیے۔جہاں وہ حق قائم کرے وہاں وہ حق ملنا چاہیے۔اس لئے اسلام ایک حسین اور عجیب مذہب ہے اس نے صرف دوسروں کے حقوق کو ہی قائم نہیں کیا بلکہ خود ہر فر د واحد کے حقوق کو تسلیم کیا اور ان کی ادائیگی کا حکم دیا۔اگر یہ حقوق تسلیم نہ کئے جاتے تو اس کا کوئی حق نہیں تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا۔تیرے نفس کے بھی کچھ حقوق ہیں جو خدا تعالیٰ نے قائم کئے ہیں اور تیرا یہ فرض ہے کہ تو ان حقوق کو ادا کرے۔ایک حق مثلاً نفس کا یہ ہے کہ اس کو متوازن غذا ملے کہ اس کی صحت قائم رہے اور اپنی زندگی میں وہ اپنی ذمہ داریوں کو نباہ سکے۔وہ یہ سمجھے کہ میری زندگی کا ہر سانس اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔یہ اسی کا ہے میرا کوئی حق نہیں کہ میں جس طرح چاہوں اپنی زندگی کے اوقات کو خرچ کروں۔جب اسے نیند آتی ہے اور جسم تھک جاتا ہے تو جسم کہتا ہے میں نے سونا ہے۔اللہ کا بندہ اس وقت یہ سوچے گا کہ سونا کیوں؟ کیا خدا نے میرا یہ حق تسلیم کیا کہ اس دنیا میں تم تھک جاؤ گے اور تمہیں نیند کی ضرورت پڑے گی اس وقت نیند کی ضرورتوں کو ان شرائط کے ساتھ جو اسلام نے بڑی وضاحت سے بیان کی ہیں پوری کرسکو گے۔یہ تمہارا حق ہے یعنی چیز خدا کی تھی اس نے اپنی رحمت سے یہ حق عطا کیا اور جب ہم اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو قرآن کریم کہتا ہے جَعَلْنَا نَوْمَهُ سُبَانًا۔(النبأ:١٠) تمہاری نیند کو تمہارے لئے راحت کا باعث بنایا ہے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس میں کوئی حکمت ہونی چاہیے۔یہ کہنے سے کہ ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے لئے راحت کا باعث بنایا ہے اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ایک حکمت یہ ہے کہ خدا یہ کہتا ہے کہ اگر میں تمہارا یہ حق تسلیم نہ کرتا کہ تم اپنی زندگی کے کچھ لمحات راحت اور آرام اور اپنی طاقتوں کو زیادہ مضبوط بنانے اور پوری طاقت حاصل کرنے کے