خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 545 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 545

خطبات ناصر جلد دوم ۵۴۵ خطبه جمعه ۲۱ / مارچ ۱۹۶۹ء استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے اور اس سے کمزوری پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔اسلام کا سوشو اکنا مک سٹرکچر (Soico Econonic Structure)’ اسلام کا اقتصادی اور معاشی انصاف اور اس قسم کے اور بہت سارے لفظ ہیں آپ وہ لفظ استعمال کریں تا کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو اور آپ کو اس میں کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔میرے نزدیک ہمیں کسی کے سوشلزم کے لفظ کے استعمال پر غصہ نہیں آنا چاہیے نیز ہمارے اس مشورہ پر ہمارے ان سیاسی رہنماؤں کو بھی طیش نہیں آنا چاہیے کیونکہ یہ مشورہ انہیں ادب کے ساتھ اور محبت کے ساتھ اور ہمدردی کے ساتھ اور خلوص کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔ایسا لفظ کیوں استعمال کیا جائے جو ہمارے ملک میں اور ہمارے ملک سے باہر غلط فہمیاں پیدا کرنے کا موجب ہو سکے۔جہاں تک کمیونزم (اشتراکیت) یا سوشلزم یا دوسرے مختلف ازم ( جن میں کیپٹیل ازم بھی شامل ہے ) کا تعلق ہے ان کے متعلق ہم مسلمانوں کو یہ یا درکھنا چاہیے کہ اسلام اس قدر کامل اور مکمل نظام زندگی پیش کرتا ہے کہ دنیا میں معاشی اور اقتصادی مساوات کے قیام کی کوئی انسانی کوشش اس کی ہوا کو بھی نہیں پہنچتی وہ اس کی رفعتوں کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔اس لئے ہمیں اسلامی نظام زندگی کو سمجھنے اور اس کو قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اسلام کا نظامِ زندگی جس میں معاشیات اور اقتصادیات بھی شامل ہیں ایک مرکزی نقطہ پر قائم ہے اور وہ ہے اللہ اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اللہ۔تمام صفاتِ حسنہ سے متصف اور اپنی ذات میں اور صفات میں کامل ہے ہمارا پیدا کرنے والا ہے، وہ ہمارا آقا ہے، ہمارا رب ہے وہ ہمیں زندگی بخشتا ہے اور ہماری زندگی کو قائم رکھنا بھی اسی کا کام ہے اور ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اس لئے ہمیں ہر وقت اس سے ایک زندہ تعلق قائم کرنے کی ضرورت ہے ہر مخلوق کا وہی خالق ہے اور ہر خلق کا کوئی مقصد ہے اور وہ مقصد یہ ہے اے انسان! کہ ہر چیز کو تیرے لئے پیدا کیا گیا ہے پس کسی فرد واحد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ حقیقی اور غیر مشروط ملکیت کا دعوی کرے۔ہر انسان کے پاس جو چیز بھی ہے وہ بطور امانت کے ہے اور اپنی امانتوں کو دیانتداری کے ساتھ ادا کرنا اس کا