خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 487 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 487

خطبات ناصر جلد دوم ۴۸۷ خطبہ جمعہ ۳۱ / جنوری ۱۹۶۹ء نے ایک موقع پر غیر مذاہب کو یہ چیلنج دیا کہ وہ اپنی تمام کتب سماوی میں سے وہ مضمون نکال کے دکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع میں سورۃ فاتحہ کی سات آیات میں بیان کیا ہے۔تو اس میں بڑی گہرائی ، بڑی وسعت ہے اس کے سینکڑوں معنی ہو چکے ہیں اور جب تک دنیا قائم ہے سینکڑوں ہزاروں معنی ہوتے رہیں گے یہ دعا اپنی کامل حیثیت میں قائم ہے اور انسان اس سے فائدہ اُٹھا تا رہے گا اس وقت میں اس تفصیل میں تو نہیں جانا چاہتا اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی پھر کسی وقت اس نقطۂ نگاہ اس زاویہ سے دوستوں کے سامنے سورۃ فاتحہ کی تفسیر رکھوں گا۔اس وقت میں صرف مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے قیام کا اصل مقصد یہ ہے کہ بچے مسلمانوں کا ایک گروہ پیدا ہو جائے جن کی زندگی پر ایک موت وارد ہو اور وہ دنیا سے گلی طور پر منقطع ہو جائیں اور ان کا دنیا سے کوئی واسطہ نہ رہے اور ایک کامل دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو کچھ اس طرح جذب کریں کہ انہیں ایک نئی زندگی ملے جو پہلی سے مختلف ، جو پہلی سے کہیں زیادہ حسین، جو پہلی سے بہت زیادہ دنیا کی خدمت گذار زندگی ہو۔آج ہمارے ملک کے جو حالات ہیں وہ تقاضا کرتے ہیں کہ ہم جن کا یہ دعوی ہے کہ ہم نے خدا سے ایک نئی زندگی پائی اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے بنی نوع انسان اور خدا کی دوسری مخلوق کی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم جو سیاسی جماعت نہیں، سیاسی طور پر تو ہم اپنے ملک کی خدمت نہیں کر سکتے لیکن روحانی جماعت ہونے کی حیثیت میں روحانی طور پر اپنے بھائیوں کی خدمت کر سکتی ہے اور ہمیں کرنی چاہیے اور وہ خدمت دعا کے ذریعہ ہے۔میں ان دنوں خاص طور پر جماعت سے خواہش رکھتا ہوں اور اس کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے ملک کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ہر فتنہ اور شر سے محفوظ رکھے۔اس وقت جوفتنہ اور شہر ہمیں نظر آتا ہے میں نے بڑا غور کیا ہے میرا ذاتی تاثر ہے کہ اس کی براہ راست ذمہ داری کسی بھی سیاسی پارٹی پر نہیں ڈالی جاسکتی بلکہ ایک خطرناک منصوبہ ہمارے ملک کو تباہ کرنے کے لئے کسی اور جگہ بنا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس حد تک تو سیاسی پارٹیوں پر ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو اپنے اندر کیوں گھنے دیتے ہیں جن کا ان کے ساتھ براہ راست تعلق نہیں اور اس طرح ان شر پسند ایجنٹس کو موقع مل جاتا ہے کہ لوٹ مار اور