خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 486 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 486

خطبات ناصر جلد دوم ۴۸۶ خطبہ جمعہ ۳۱ / جنوری ۱۹۶۹ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ اسلام حقیقتا اس آگ کا نام ہے کہ جو دو طرفہ ہوتی ہے ایک طرف انسان کے دل میں اپنے رب کے لئے محبت کی آگ شعلہ زن ہوتی ہے اور دوسری طرف انسان کے دل کی یہ محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کو جذب کرتی ہے اور اس دوطرفہ شعلہ کے نتیجہ میں اللہ کی عظمت اور جلال کے جلوہ کے بعد انسان کا اپنا کچھ باقی نہیں رہتا سب کچھ اللہ کا ہو جاتا ہے اور جب محبت کا یہ مقام انسان کو حاصل ہو جائے تب وہ اپنی پہلی زندگی تو ختم کر چکا۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ایک نئی زندگی عطا ہوتی ہے اور یہ نئی عطا، یہ ئی زندگی ایسی ہے جس کا ہر سانس خدا تعالیٰ کے لئے وقف ہے۔جس کا ہر جذبہ، جس کی ہر خواہش، جس کی ہر لذت خدا کے لئے اور خدا سے ہے کوئی چیز اس کی اپنی باقی نہیں رہتی اس دنیا میں جو عام قانون چل رہا ہے اس کے مطابق مسلمان بھی ، ہندو بھی ، سکھ بھی، عیسائی بھی ، دہر یہ بھی، بد مذہب بھی ، خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے والے بھی ایک نئی زندگی گزار رہے ہیں وہ زندگی تو ختم ہو گئی لیکن ایک مسلمان کو ایک نئی زندگی ملتی ہے اور یہ زندگی اسے ایک موت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔وہ خدا کے لئے ایک موت قبول کرتا اور خدا کی عطا سے ایک نئی زندگی کو پاتا ہے۔اس نئی زندگی میں اس کے تمام خیالات، اس کے تمام رحجانات ، اس کے تمام جذبات، اس کے تمام تعلقات ایک نیا رنگ رکھتے اور اللہ کی روشنی سے منور اور اس کی محبت سے اصلاح یافتہ ہوتے ہیں اور نئی زندگی میں جو تعلقات غیر اللہ سے ہوتے ہیں وہ اپنے اندر ایک نیا رنگ رکھتے ہیں۔دنیا کے لئے دنیا سے تعلق نہیں رکھا جاتا۔خدا کے لئے خدا کی مخلوق سے تعلق پیدا کیا جاتا ہے اور یہ محبت کا مقام انسان کو یہ سبق دیتا ہے کامل اطاعت کے بعد انسان یہ جانتا ہے کہ میں یہ دوسری زندگی حاصل نہیں کر سکتا نہ اس زندگی کو قائم رکھ سکتا ہوں جب تک کہ مجھے دعا کا سہارا حاصل نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورہ فاتحہ کی شکل میں انسان کو ایک کامل دعا سکھائی ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعائے فاتحہ نام رکھا ہے پس کامل اطاعت کے ساتھ کامل دعا کا ہونا ضروری ہے تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر کامل فیوض جاری ہوتے ہیں اس کامل دعا میں ہمیں جو سکھایا گیا ہے وہ اتنا گہرا اور اتنا وسیع ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام