خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 488
خطبات ناصر جلد دوم ۴۸۸ خطبہ جمعہ ۳۱ / جنوری ۱۹۶۹ء توڑ پھوڑ کے کام کریں لیکن میرے نزدیک براہِ راست کسی سیاسی پارٹی پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی کیونکہ میرے نزدیک وہ اس کے ذمہ وار نہیں ہیں اور نہ اسے پسند کر سکتے ہیں کہ ملک کو اس طرح تباہ کر دیا جائے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہمیں ایک مذہبی اور روحانی جماعت ہونے کے لحاظ سے اس سے کوئی براہ راست تعلق نہیں گو ایک شہری کی حیثیت سے ہمارا ہر فرد اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ہم پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرض عائد کیا ہے کہ ہم اس کی محبت میں فنا ہو کر اس کی مخلوق کی خدمت میں لگے رہیں اور ہمارے نزدیک خدا کی مخلوق کی جو بہترین خدمت کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم ان کے لئے ہر وقت دعاؤں میں لگے رہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ہر قسم کے فتنہ اور شر سے اور تباہی سے اور انتشار سے محفوظ رکھے اور ہمارے ملک اور ہماری قوم کو توفیق دے کہ وہ دینی اور د نیوی لحاظ سے ترقی پر ترقی کرتے چلے جائیں اور رفعتوں پر رفعتیں حاصل کرتے چلے جائیں۔پس ہم اپنے بھائیوں ، اپنے ملک، اپنی قوم کی دعا سے مدد کر سکتے ہیں اور اس میں ہمیں بخل خست نہیں دکھانی چاہیے بلکہ اپنے لئے بھی اس زمانہ میں دعائیں چھوڑ دو اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتیں خود پوری کرے گا اور اپنے بھائیوں کے لئے ہر وقت دعا کرتے رہو کیونکہ میرے نزدیک جو منصو بہ کسی شر پسند دماغ نے بنایا ہے اس کا اصل مقصد مسلمان اور اسلام کو ضعف پہنچانا ہے اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمان کو اس شیطانی منصوبہ کے شر سے محفوظ رکھے اور آسمان سے فرشتوں کو نازل کرے جو ہماری اس قوم کی حفاظت کریں اور ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں جن حالات کے نتیجہ میں اُمت مسلمہ میں ضعف پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا:۔دوست میرے لئے بھی دعا کریں جلسہ کے ایام سے انفلوائنزا کا ہلکا اثر چلا آ رہا ہے شاید ہلکے اثر ہونے کی وجہ سے لمبا اثر ہو گیا ہے کبھی ہلکی حرارت ہوتی رہی ہے کبھی گلے میں زیادہ تکلیف کبھی نسبتا آرام۔بہر حال اگر چہ کل سے کچھ افاقہ محسوس کرتا ہوں لیکن پوری طرح اثر ابھی دور