خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 325
خطبات ناصر جلد دوم ۳۲۵ خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۶۸ء سے محفوظ رکھ اور ہماری فطرت کو بھی سہارا دے غرض مومن اپنے لئے بھی دعا ئیں کرتے ہیں اور پہلوں کے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں اور پھر بعد میں آنے والوں کے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں۔دونوں خطبوں کا مضمون یکجائی طور پر اگر مختصراً بیان کیا جائے تو یہ بنتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامل اور مکمل مظہر صفات باری کی حیثیت میں دنیا کی طرف مبعوث ہوئے اور آپ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنے رب کو پہچانے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا ہو کر اپنی اپنی استعداد کے مطابق صفات باری کا مظہر بنے اس پاک وجود کو جو امت محمدیہ کہلاتی ہے ( جسے ہم امت محمدیہ یا اُمت مسلمہ کہتے ہیں وہ ایک ہی وجود ہے اس کی روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس کا دل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔اس کا نور نور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے یہ ایک پاک وجود دنیا میں قائم کیا گیا ہے جس کو قیامت تک کی زندگی عطا ہوئی ہے۔یعنی امت محمدیہ کی اجتماعی زندگی قیامت تک کی ہے اور اس وجود کا پھیلاؤ زمین کے کڑے کو احاطہ کئے ہوئے ہے ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے ) جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری تھا کہ یہ سارا وجود اور خدا تعالیٰ کے فرشتے دعاؤں میں مشغول ہو جائیں کیونکہ دعا کے بغیر اور خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کرنے اور رحمت پانے کے بغیر دنیا میں کوئی کامیابی بھی انسان کو نہیں مل سکتی کجا یہ کہ اتنی عظیم کامیابی حاصل ہو پس ضروری تھا اُمت محمدیہ ایک وجود کی حیثیت میں دعاؤں میں مشغول ہو جائے ان کی دعاؤں کا ایک بڑا حصہ یہ رہا ہے اور یہ رہے گا! کہ اے ہمارے رب ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس مقصد کے لئے مبعوث ہوئے تھے اس مقصد میں آپ کو اس رنگ میں کامیاب کر کہ دنیا کی کوئی کامیابی بھی اس کے مقابلہ میں پیش نہ کی جا سکے انتہائی کامیابی آپ کو عطا کر پھر ان دعاؤں میں یہ بھی شامل ہے کہ قرآن کریم کی عظمت دلوں میں بیٹھے اسلامی تعلیم انسان کی زندگی پر حکومت کرے اور یہ سب اس لئے ہو کہ انسان کے دل میں خدائے واحد و یگانہ، قادر و توانا کی محبت پیدا ہو اور انسان اپنے رب کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے طفیل وہ اپنی استعداد کے مطابق اپنے دائرہ کمال کو پہنچے اور مظہر صفات باری بنے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم ملا کہ اس اُمت کے