خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 326
خطبات ناصر جلد دوم ۳۲۶ خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۶۸ء لئے دعائیں کرو اور جو دعائیں آپ نے اس اُمت کے لئے کیں وہ اُمت کی مغفرت کے لئے ہیں ہر دو معنی کے لحاظ سے کہ اگر کوئی غلطی سرزد ہو جائے چاہے وہ کسی زمانہ میں کسی فرد واحد اور کسی قوم سے سرزد ہو تو اے خدا! تو اس کے بدنتائج سے اُمت کو بحیثیت امت محفوظ رکھنا اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے بھی کہ اے ہمارے ربّ کہ جو افراد تیرے اس مقدس درخت کی شاخیں بنیں گے وہ اپنی بشری اور فطرتی کمزوریوں کو ساتھ لے کر آئیں گے تو ایسا سامان کر دے کہ ان کی فطری اور بشری استعداد میں تیری طاقت کے سہارے طاقت پائیں اور فطری بشری کمزوریاں ظاہر نہ ہونے پائیں اور اس طرح پر امت محمد یہ تیرے قرب کی راہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرتی چلی جائے۔غرض چونکہ فرشتے اُمت محمدیہ کے لئے دعائیں کر رہے ہیں چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کے لئے دعائیں کر رہے ہیں چونکہ یہ ساری کی ساری اُمت اپنے اور ایک دوسرے کے لئے دعائیں کر رہی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا کہ جو لوگ بھی اس معنی میں اس وجود کا حصہ بن جائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث ہوں گے اور چونکہ یہ ایک بہت بڑا وجود ہے اس کا زمانہ ( یعنی اس کی اجتماعی زندگی) قیامت تک پھیلا ہوا ہے وسعتوں کے لحاظ سے ہر ملک ہر بر اعظم اور ہر شہر اور ہر گاؤں سے اس کا تعلق ہے اور اربوں ارب افراد اپنے پر ایک موت وارد کر کے اور اس وجود میں گم ہو کر ایک نئی زندگی پانے میں کوشاں ہوں گے اور وہ اپنی بشری کمزوریاں ساتھ لے کر جائیں گے۔ان بشری کمزوریوں سے حفاظت کا کوئی سامان پیدا ہونا چاہیے تھا اور وہ سامان اللہ تعالیٰ نے استغفار کے ذریعہ پیدا کیا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ یہ سامان استغفار کے ذریعہ اس طرح پیدا کیا گیا کہ فرشتوں کو حکم ہوا کہ تم اُمتِ مسلمہ کے لئے دعاؤں میں مشغول ہو جاؤ اور دعا کرو کہ اگر کوئی بشری کمزوری سرزد ہو جائے تو اس کے بدنتائج سے وہ محفوظ رہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اس طرح بھی اس اُمت کے شامل حال رہے کہ اس کی فطری کمزور یاں ظاہر ہی نہ ہوں ان تمام امکانی کمزوریوں پر اللہ کی رحمت اور مغفرت کی چادر کچھ اس طرح پڑ جائے کہ ان کا منہ اس چادر سے