خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 324
خطبات ناصر جلد دوم ۳۲۴ خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۶۸ء صفات ( تو اب اور رحیم ) کے جلوے دیکھنے ہوں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریق پر استغفار کرتے ہوئے خود کو اس بات کا مستحق بنائے کہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں پہنچیں اور اس کے استغفار کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار شامل ہو جائے تب وہ خدا تعالیٰ کی صفات تو اب اور رحیم کے جلوے دیکھے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تمہیں صرف اپنے لئے ہی نہیں ساری اُمت کے لئے استغفار کرنا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ ساری اُمت کے افراد نے اپنی تمام بشری اور فطری کمزوریوں سمیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کا حصہ بنا تھا اس لئے ضروری تھا کہ ایک تو اگر گناہ سرزد ہو جائے تو اس کی معافی کا انتظام ہو اور دوسرے ایسا سامان ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کچھ ایسے رنگ میں انسان سے محبت کا سلوک کرے کہ اس کی طاقت اور قدرت انسانی فطرت کو سہارا دے اور فطرتِ انسانی اس سہارے کے بعد غلطیوں سے محفوظ ہو جائے پس اُمتِ مسلمہ کو یہ کہا کہ تمہارا یہ فرض ہے کہ تمام مومنوں کے لئے استغفار کرتے رہو اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے۔الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرُ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ وہ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم سب جماعت مومنین میں شامل ہو گئے ہیں فَاغْفِرُ لَنا تو ہم کو اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لے غرض یہاں ساری اُمت کے لئے دعا کرنا جماعت مومنین کی ایک صفت بیان کی گئی ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے سورۃ حشر میں یوں فرمایا۔وَالَّذِينَ جَاء وَ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ کہ جس طرح بعد میں آنے والے مومن پہلوں کی دعا اور استغفار سے حصہ لینے والے ہوتے ہیں اسی طرح وہ پہلوں کے لئے بھی دعا اور استغفار کرتے ہیں۔رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ ان کی دعاؤں میں یہ دعا بھی شامل ہوتی ہے کہ اے ہمارے رب ! تو ہماری غلطیوں کو بھی معاف کر اور ان کو بھی بخش دے جو ہم سے پہلے تیرے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لائے اور اے ہمارے رب ! جس طرح تو نے ان کی فطرت کو سہارا دیا اور بشری کمزوریوں سے انہیں محفوظ کر لیا اسی طرح تو ہمیں بھی بشری کمزوریوں