خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 305
خطبات ناصر جلد دوم ۳۰۵ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء اور اور دعائیں کرو اگر تم اس کی تعمیل کرو گے تو تمہارے اس عمل کا نتیجہ خدائے رحیم اس شکل میں دے گا۔وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِینَ رَحِیمًا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس ایمان لانے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے اور آپ کے لئے دعاؤں میں مشغول رہتے ہیں اور آپ کے لئے سلامتی چاہتے ہیں ان کا یہ عمل خدائے رحیم قبول کرے گا اور اس کا جو بہترین نتیجہ ہے وہ ان کے لئے نکالے گا۔جہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے اور اس کے فوائد انہیں بتائے ہیں وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وَصَلَّ عَلَيْهِمْ تو ان کے لئے دعائیں کر۔چونکہ اس جماعت کے سردار اللہ کے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس لئے جب سردار اس جماعت کے لئے یعنی اپنے ہی درخت وجود کی شاخوں کے لئے دعائیں کرے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اِنَّ صَلوتَكَ سَكن لَّهُم امن سکون کے حالات ان لوگوں کے لئے پیدا کئے جائیں گے ان کے خوف کو دور کیا جائے گا ان پر رحمتوں کا نزول ہوگا اور وہ اطمینان اور بشاشت کے ساتھ اپنے رب کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہو جا ئیں گے اور اس کی مقبول دعاؤں کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ جس طرح اس کی (صلی اللہ علیہ وسلم) دعائیں اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے ان کی دعائیں بھی قبول ہوں گی کیونکہ واللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ اللہ تعالیٰ دعاؤں کو سننے والا ہے لیکن چونکہ وہ علیم بھی ہے اس لئے اے رسول تم ان کو یہ بتا دو کہ دعا ئیں خلوص نیت سے ہوں اور اس جسم کا حصہ رہتے ہوئے اور اس احساس کے ساتھ ہوں کہ ہمارا انفرادی وجود اجتماعی وجود میں غائب ہو گیا ہے اور یہ اجتماعی وجود ( جماعت مومنین کا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں گم ہو کر ایک ہی وجود بن گیا ہے جسے ہم صحیح طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود کہہ سکتے ہیں اگر یہ نیت ہوگی، یہ اخلاص ہو گا ، یہ لوگ اس حقیقت پر قدم ماریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کی دعا ئیں بھی قبول کرے گا۔ان آیتوں پر جب ہم یکجائی نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائیں کرتے رہیں دوسری طرف