خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 306
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس جماعت کے لئے دعائیں کرتے رہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ترقیات کے لئے اُسوہ سمجھتے اور آپ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور آپ میں فنا ہو کر ایک نئی زندگی پاتے اور آپ کے وجود کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔تیسرے اللہ تعالیٰ نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کو کہا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے رہا کرو اور آپ کے لئے دعائیں کرتے رہا کرو وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی فرما یا صَلِّ عَلَيْهِم تو ان کے لئے دعاؤں میں مشغول رہ کیونکہ تیری دعاؤں کے نتیجہ میں ہی ان کے لئے امن اور سکون اور اطمینان اور بشاشت کے سامان پیدا ہوں گے پس یہ ایک جسم ہے جس کی روح ، جس کا دل ، جس کا دماغ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے لیکن یہ جماعت آپ کے وجود سے مختلف اور علیحدہ نہیں اور جماعت میں کوئی ایسا فرد جو واقعہ میں اس جماعت کا ایک رکن یا اس جماعت کا ایک حصہ ہو نہیں ہو سکتا جو یہ کہہ سکے کہ میں اس جسم کا حصہ نہیں بلکہ میرے اندر کوئی ذاتی خوبی ہے جس کی وجہ سے میں خدا تعالیٰ کا محبوب ہوں مثلاً ظاہری جسم ہے ایک انگلی یہ کہے کہ میں اس جسم کا حصہ تو نہیں لیکن میرے اندر اپنی کوئی ذاتی خوبی یا طاقت ہے تو ہم انگلی کو کہیں گے کہ ہم تمہیں کاٹ کر پرے پھینک دیتے ہیں پھر معلوم ہو جائے گا کہ تم میں کتنی طاقت ہے اگر تمہیں جسم سے کاٹ کر پھینک دیا جائے تو تم ایک مُردہ، بے جان اور بے حقیقت چیز ہو گی جس کی کوئی قیمت نہیں تم گوشت کا ایک ٹکڑا اور ہڈی کی ایک کرچ ہی ہوگی نا، اس سے بڑھ کر تو تمہاری کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا کہ اگر اور جب تمہاری دعائیں قبول ہوں تو تمہاری دعا ئیں اس وجہ سے قبول ہوں گی کہ تم ایک وجود بن گئے ہو اور اس وجود کی روح ، اس کا دل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ پہلوں کے لئے بھی آپ کا ہی وجود ایک روح ہے آنے والوں کے لئے بھی آپ کا وجود ہی دل اور روح کا کام دیتا ہے باقی لوگ تو جسم کے ذرے ہیں اور بے حقیقت ذرے ہیں اسی وقت تک ان کی کوئی قدر اور قیمت ہے جب تک کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان میں باقی اور قائم رہے جب تک