خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 295 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 295

خطبات ناصر جلد دوم ۲۹۵ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۶۸ء چیز میں ہمارے دلوں میں فکر پیدا کرتی ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے حضور ہی جھک سکتے ہیں اور اس کے حضور ہی ہم جھکتے ہیں کبھی انسان خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی راہ کو چھوڑتا ہے کبھی انسان اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اشیا کے صحیح استعمال کو چھوڑتا ہے ہر دو صورتوں میں وہ اپنے لئے تکلیف، دکھ اور تباہی کے سامان پیدا کرتا ہے اور ان سب باتوں سے بہر حال مجھے بھی پریشان ہونا پڑتا ہے اور مجھے ان سے تکلیف ہوتی ہے اور یہ چیز میرے جسم میں شکر کے نظام میں خرابی کا باعث بنتی ہے بہر حال اس زندگی میں تو اس سے چھٹکار انہیں اس لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت کو بھی اور جماعت کو بھی بحیثیت جماعت اور بنی نوع انسان کو بحیثیت انسان تباہیوں ، دکھوں اور پریشانیوں اور ہلاکتوں سے محفوظ رکھے تا کہ ہماری فکر نسبتا کم ہو جائے۔جہاں تک جماعت اور اس کے افراد کا تعلق ہے یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے مطابق جو اس نے قرآن کریم میں دیا ہے ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہیں ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ نہیں دیا کہ ہر حالت میں میں تمہارے لئے خیر اور برکت اور فضل اور رحمت کے سامان پیدا کروں گا۔ہم سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر ہم اس کی راہ میں اذیتوں کو برداشت کریں گے اور اس کی راہ میں پیش آنے والے ابتلاؤں اور امتحانوں میں پورا اتریں گے اگر ہم اس کی خاطر اپنے نفسوں کو مشقت میں ڈالیں گے اور بشاشت کے ساتھ دکھوں کو قبول کریں گے اور قضا و قدر پر راضی رہیں گے اور اس کی نعمتوں کو اس طرح یا درکھیں گے کہ یہ دکھ اور یہ ابتلا کوئی حیثیت ہمارے لئے نہیں رکھتیں اور قربانی اور ایثار اور فدائیت کا نمونہ دکھا ئیں گے تب ہم اس کی بشارتوں کے حامل ہوں گے تب ہم اس کے قرب کی راہوں کو پائیں گے تب وہ ہدایت کے سامان ہمارے لئے پیدا کرے گا تب وہ ہمیں اپنی رضا کی جنتوں میں لے جائے گا۔غرض جہاں تک ہمارا تعلق ہے اس نے ہمارے روحانی درجات کو بلند کرنے کے لئے اور اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرنے کے لئے ہمارے لئے دکھوں اور دردوں اور مشقتوں اور ایذا کے سامان پیدا کئے ہیں اس ایزا کی ہمیں بشارت دی گئی ہے اس دکھ اور درد اور پریشانی کی ہمیں بشارت دی گئی ہے کیونکہ وہ مصیبت جو اطمینان کو ہلاک کر دیتی ہے اور اسے کسی نعمت کا وارث نہیں بناتی وہ تو ہلاکت ہے وہ دکھ اور درد جو