خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 294
خطبات ناصر جلد دوم ۲۹۴ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۶۸ء اب ضعف دماغ بھی نہیں جسم کا بوجھ بھی نہیں کام میں اپنا پورا کرتا ہوں اَلْحَمْدُ لِلهِ۔وزن بھی اپنی جگہ ٹھہرا ہوا ہے اگر کبھی ایک پونڈ بڑھ جائے تو میں خوراک کم کر دیتا ہوں لیکن جس طرح ذیا بیطس کی ٹنڈنسی (Tendency) اپنی ایک حد پر آکر ٹھہر گئی ہے اسی طرح میری غذا بھی اس حد پر جو کم سے کم ہو سکتی ہے ٹھہری ہوئی ہے ۳٫۴ چھٹانک آٹا میری معمول کی غذا ہے سوائے اس کے که شکار یا غیر معمولی ورزش ہو تو اس وقت زیادہ بھوک لگتی ہے اور ۳٫۴ چھٹانک آٹا کی غذا کو کہاں تک کم کیا جا سکتا ہے ویسے یہ ہو سکتا ہے کہ تین چار دن تک آٹا نہ کھایا جائے اور ان دنوں میں بعض ایسی چیزوں پر گزارہ کر لیا جائے جن میں سٹارچ (Starch ) نہیں ہوتا بہر حال ڈاکٹروں نے مجھے ہدایت دی ہے کہ وزن بڑھنا نہیں چاہیے اصل چیز تو صحت ہے کام کی توفیق ہے جو اللہ کے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے یہ چیزیں شاملِ حال رہیں تو مٹی کے ڈھیر کو ساتھ چمٹائے رکھنے سے کیا فائدہ اور نہ اس سے پیار ہے۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جس حال میں بھی رکھے اپنی رحمت میں رکھے اور توفیق عطا فرماتا رہے کہ وہ ذمہ داری جو اس نے اس عاجز اور کمزور کندھوں پر ڈالی ہے اس کے پورا کرنے کا جو حق ہے وہ ادا ہوتار ہے۔ایک چیز اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس وقت ذہنی پریشانی یا افکار ہوں تو خون میں شکر زیادہ ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ انسان افکار میں مارا ہی نہ جائے لیکن جب جسمانی ورزش کی جائے تو شکر کم ہو جاتی ہے کیونکہ وہ استعمال میں آجاتی ہے اب میرے جیسے آدمی کو تو افکار سے چھٹکارا نہیں مثلاً گھانا میں کسی احمدی کو کوئی تکلیف پہنچے تو ساتھ ہی مجھے بھی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے امریکہ میں کسی احمدی کو کوئی تکلیف پہنچے یا یورپ میں کوئی احمدی تکلیف میں ہو یا پریشان ہو یا نجی کے جزائر یا آسٹریلیا میں کوئی احمدی پریشان ہو ( دنیا کے ہر ملک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت احمدی موجود ہیں اور جہاں جہاں بھی احمدی ہیں وہاں اگر ان میں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچے ) تو مجھے بھی ساتھ ہی پریشان ہونا پڑتا ہے اور پھر بنی نوع انسان کی ہمدردی اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے دل میں ڈالی ہے جب انسان بہکتا ہے جب انسان اپنے لئے مصیبتوں کے سامان پیدا کرتا ہے جب انسان اپنی تباہی کی راہوں کو اختیار کرتا ہے تو یہ ساری