خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 296
خطبات ناصر جلد دوم۔۲۹۶ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۶۸ء دکھ اور درد کی حیثیت میں ہی ختم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو جذب نہیں کرتا وہ دکھ یقینا دکھ اور درد ہی ہے لیکن وہ دکھ اور درد اور وہ مصیبتیں اور تکلیفیں اور مشقتیں جو انسان اپنے رب کو راضی داور کرنے کے لئے برداشت کرتا ہے اور جب اپنی یہ قربانیاں خلوص نیت کے ساتھ اس کے حضور پیش کر دیتا ہے تب وہ عظیم الشان بشارتیں جو اسے دی گئی ہیں اس کے حق میں پوری ہوتی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں کا وارث بن جاتا ہے غرض یہ دکھ تو ہمارے ساتھ لگے ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمیں بہت سی بشارتیں بھی دی گئی ہیں۔آج کل بھی ایک ابتلا کا زمانہ جماعت پر ہے اور وہ اسی بشارت کے مطابق ہے جو قرآن کریم نے ہمیں دی تھی لیکن قرآن کریم نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ فساد پھیلانے کی کبھی کوشش نہ کرنا ولا تبغ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ (القصص:۷۸) اس لئے کہ اگر قانون شکنی کے نتیجہ میں اگر بدی کے مقابلہ میں بدی کرنے کے نتیجہ میں اگر امن کو برباد کرنے کے نتیجہ میں فساد پیدا ہوگا اور تم اس کے ذمہ دار ہو گے تو یاد رکھو کہ تم خدا تعالیٰ کی محبت سے محروم کر دیے جاؤ گے إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (القصص:۷۸) کیونکہ اللہ تعالیٰ مفسدوں سے پیار نہیں کیا کرتا پس اگر تم اس محبت الہی کو جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں عطا کی ہے اپنے پاس مضبوطی سے پکڑے رکھنا چاہتے ہوا گر تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم پر اس کی غضب کی نگاہ پڑے تو یہ یا درکھو کہ فساد پیدا کرنے کا ذریعہ بھی نہ بننا فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرنا بلکہ فسادی کے مقابلہ میں ایسا نمونہ دکھانا کہ اس کے مفسدانہ ارادے ناکامیوں کا منہ دیکھیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے یہ فرمایا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ ( المائدة : ۵۲ ) ظالم نہ بننا۔مظلوم کی زندگی گزارنے کی کوشش کرنا کیونکہ جو ظالم بن جاتا ہے یا جو گروہ یا فرقہ ظالم ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہدایت کی راہوں کے سامان پیدا نہیں کیا کرتا اور جس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت کی راہوں کے سامان پیدا نہیں کرتا وہ کامیاب نہیں ہوسکتا وہ اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتا اس کی زندگی ایک کامیاب انسان کی زندگی نہیں کہلا سکتی اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کامیاب ہوا اور فلاح اس نے حاصل کی کیونکہ اِنَّهُ لَا يُفْلِحُ