خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 223 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 223

خطبات ناصر جلد دوم ۲۲۳ خطبہ جمعہ ۲۶ / جولائی ۱۹۶۸ء آگیا ہے میں اُمید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کی اور میری دعاؤں کو سنے گا اور صحت دے گا میرا ارادہ کراچی جانے کا ہے وہاں میں نے ڈاکٹروں سے بھی مشورہ کرنا ہے۔پانچ چھ سال ہوئے مجھ پر بڑی شدید قولنج کی بیماری کا حملہ ہوا تھا اس طرح کہ انتڑی بند ہو گئی تھی غالباً اس میں کوئی بل پڑ گیا تھا یا پتہ نہیں اور کیا بات ہوئی تھی اس میں سے نہ ہوا گزرتی تھی نہ فضلہ اور جسم میں زہر جمع ہونے شروع ہو گئے اور پیٹ پھولنا شروع ہوا آخر ہمارے ڈاکٹر مسعود صاحب یہاں آئے اور انہوں نے کہا لا ہور جا کر فوراً آپریشن کروانا چاہیے چنانچہ لاہور کی تیاری ہوگئی لیکن لاہور کے راستہ میں ہی انتری کا راستہ کھل گیا ( اللہ تعالیٰ اس طرح بھی فضل کرتا ہے ) اور جب ہم وہاں پہنچے تو آپریشن کی ضرورت نہیں پڑی اس وقت جب ٹیسٹ کروائے تو خون میں بھی شکر تھی اور قارورہ میں بھی شکر تھی وہاں ایک غیر ملکی ڈاکٹر ہیں انہوں نے مجھے کہا کہ اگر کسی سخت بیماری کا حملہ ہو تو بعض دفعہ جسم کے دوسرے نظام ( جو اللہ تعالیٰ نے بیسیوں بلکہ بے شمار جسم کی حفاظت کے لئے بنائے ہیں ایک یا زائد نظام) متأثر ہوتے ہیں حقیقی بیماری نہیں ہوتی بلکہ کسی اور بیماری کا اثر ہوتا ہے اس لئے ذیا بیطس کی دوائی بالکل نہ کھانا کیونکہ پھر وہم ہو جائے گا اور جسم کو دوا کی عادت پڑ جائے گی کئی مہینے تک کھانے کا پر ہیز کرو پھر دیکھو کیا اثر ہوتا ہے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ قریبا دو مہینے کے پر ہیز کے بعد خود بخود بغیر کسی دوائی کے گردوں نے اپنے معمول کے مطابق کام کرنا شروع کر دیا اور ساری بیماری جاتی رہی۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ اب بھی اللہ تعالیٰ ایسا فضل کرے گا کہ بغیر کسی علاج کے خود بخود ہی آرام آجائے گا کیونکہ وہی شافی مطلق ہے دوائی تو ایک تدبیر ہے اور تدبیر ہمیں کرنی پڑتی ہے کوئی نہ کوئی بہانہ ہوتا ہے مثلاً جب میرے جیسا ذہن سوچتا ہے کہ دوائی نہیں کھانی تو چونکہ عام طور پر ایلو پیتھک علاج رائج ہے اس لئے میں سوچتا ہوں کہ اچھا میں ایلو پیتھک دوائیں استعمال نہیں کروں گا اور جب سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تدبیر کرنے کا حکم بھی دیا ہے تو پھر سوچتا ہوں کہ اچھا ہو میو پیتھک دوائیں میں استعمال کرلوں گا جو بعض کے نزدیک تو صرف پانی ہی ہوتی ہیں اس طرح تدبیر بھی ہو جاتی ہے ہو میو پیتھک طریق علاج بھی اللہ تعالیٰ نے ہی سکھایا ہے وہ بعض دفعہ مٹی کی ایک چٹکی میں بھی شفار کھ دیتا ہے وہ کاغذ