خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 224
خطبات ناصر جلد دوم کی ایک گولی میں بھی شفا رکھ دیتا ہے۔۲۲۴ خطبہ جمعہ ۲۶ / جولائی ۱۹۶۸ء میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک شخص کو شدید پیٹ درد ہوا رات کے دو بجے تھے وہ گو جوان آدمی تھا لیکن درد اتنا شدید تھا کہ اس نے سارا محلہ سر پر اٹھا لیا سب لوگ جاگ پڑے اور یہ خیال کر کے کہ پتہ نہیں کیا بات ہے اس شخص کے مکان کی طرف دوڑے وہاں جا کر دیکھا کہ وہ شخص درد کی وجہ سے تڑپ رہا ہے۔حضرت میاں شریف احمد صاحب کے مکان کے قریب ہی اس شخص کی رہائش تھی آپ بھی وہاں پہنچے وہاں اسے تڑپتے دیکھا تو ایک آدمی کو دوڑایا کہ ڈاکٹر کو لے آؤ اور اپنی جیب میں سے ایک کاغذ نکالا اس کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لیا اور اس کو اچھی طرح بل دے کر ایک گولی بنائی پھر آپ نے پانی منگوایا اور اس شخص کو کہا منہ کھولو میں خود دوائی منہ میں ڈالوں گا کیونکہ آپ اس کے ہاتھ میں کاغذ کا ٹکڑا پکڑا نہیں سکتے تھے آپ نے دعا کی اور اس شخص کو کاغذ کی گولی کھلا دی اور پانچ منٹ کے اندر قبل اس کے کہ ڈاکٹر آئے اس کو آرام آگیا اور اس کی چیچنیں بند ہو گئیں اب دیکھو کاغذ کے اس ٹکڑے میں شفا نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت جب اس کی صفت شفا کو حرکت میں لاتی ہے اور اس کی یہ صفت جلوہ دکھاتی ہے تو یہ جلوہ جس چیز پر پڑتا ہے وہ کاغذ کا ٹکڑا ہو یا مٹی کی چٹکی ہو یا کوئی بہترین دوا ہو (اس جلوہ کے لئے وہ سب ایک جیسی ہیں) ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ شفا دے دیتا ہے حالانکہ بڑے بڑے ماہر ڈاکٹر علاج کرتے ہیں اور بہترین مہنگی دوائیں دیتے ہیں لیکن بیماری میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا غرض بعض دفعہ اللہ تعالیٰ یہ جلوہ بھی دکھاتا ہے دراصل یہ ساری باتیں انسان کو اس لئے دکھائی جاتی ہیں کہ وہ اس یقین پر پختگی سے قائم ہو جائے کہ اصل شافی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے دوائیں نہیں۔غرض میں نے ہومیو پیتھی کی بعض دوائیں کھائیں اور ایک دوا جدوار ہے وہ بھی گردوں کے لئے بڑی اچھی ہے جسم کی عام غدودوں کو بھی وہ فائدہ دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہامی نسخہ ہے ، وہ بھی میں کھاتا رہا ہوں لیکن یہ چیزیں بھی بڑے لمبے استعمال کے بعد ہی اثر کرتی ہیں لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ دو دن کے بعد ٹیسٹ ہوئے (خون کے بھی اور قارورہ کے بھی) تو معلوم ہوا کہ بیماری قریباً ایک تہائی دور ہو چکی۔