خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 222
خطبات ناصر جلد دوم ۲۲۲ خطبہ جمعہ ۲۶ / جولائی ۱۹۶۸ء قارورے کا جب ٹیسٹ کروایا تو اس میں قریباً ساری ہی گردوں کی بیماری کی علامات تھیں خون کے ذرے بھی تھے پس (Pus) کے ذرے بھی تھے۔البیومن (Albumin) بھی تھا بہت زیادہ ایسیڈ ٹی (Acidity) بھی تھی شوگر (Sugar ) بھی تھی اور خون میں بھی شکر بہت زیادہ تھی یعنی ۱۲۰ نارمل ہے اور میرے خون میں شکر ۲۸۵ تھی لیکن میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ یہ ذیا بیطس کی بیماری نہیں بلکہ دوسری بیماریوں کی وجہ سے گردے ٹھیک کام نہیں کر رہے جب یہ ٹھیک کام کرنے لگ جائیں گے تو ساری چیزیں اپنے معمول پر آجائیں گی اور میں دعائیں بھی یہی کرتا رہا ہوں کہ اے خدا! تو مجھے ان بیماریوں سے محفوظ رکھ وقتی بیماریاں تو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں لیکن جب مستقل بیماری کی شکل پیدا ہو جاتی ہے وہ ذیا بیطس کی ہو یا کوئی اور وہ زیادہ تکلیف دیتی ہے۔تکلیف تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں برداشت کی جاسکتی ہے اور کی جاتی ہے لیکن بہر حال اس کا اثر کام پر پڑتا ہے اور کچھ کام ایسے ہیں جو روزانہ مجھے کرنے پڑتے ہیں۔دو دن بھی بیماری کی وجہ سے کام نہ کر سکوں تو طبیعت پر بہت زیادہ بوجھ ہو جاتا ہے اور جسم پر بھی بوجھ ہوتا ہے کیونکہ وہ کام جو میں نے کرنا ہے وہ میں نے ہی کرنا ہے کوئی اور تو نہیں کر سکتا مثلاً جب مجھے گاؤٹ (Gout) یعنی نقرس کا حملہ ہوا تو میں دورا تیں سو نہ سکا شدید درد تھی تیسرے دن صبح میری نظر پڑی میرے سرہانے تو ڈاک کے انبار پڑے ہوئے تھے میں نے سوچا کہ اگر دو دن اور گزر گئے تو بڑی مشکل پڑ جائے گی چنانچہ اس بیماری ہی میں میں نے صبح کام کرنا شروع کیا میں چار پائی پر ہی کام کرتا رہا اور رات کے ایک بجے تک کام کرتا رہا اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ کام ختم ہو گیا لیکن جسم پر کام کی وجہ سے ( خصوصاً بیماری کے ایام میں ) جواثر پڑتا ہے وہ تو پڑتا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ جو بڑا ہی فضل کرنے والا ہے، جو اپنے عاجز بندوں پر بڑا ہی رحم کرنے والا ہے اس نے میری دعاؤں کو سنا اور تین دن کے اندر بغیر کسی دوائی کے ۱٫۳ بیماری دور ہو گئی صرف ۲۳ رہ گئی ہے بلڈ اور شوگر لیول (Blood+Sugar level) بھی بیماری والے حصہ میں دو تہائی رہ گیا ہے یعنی ایک تہائی کا آرام آگیا ہے اور قارورے میں بھی ۳/ ۲ رہ گیا ہے اور ۱٫۳ آرام