خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1033 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1033

خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۳۳ خطبہ جمعہ ۲۶ / دسمبر ۱۹۶۹ء خون خدا کے حضور عزت کے ساتھ پیش نہیں کئے جاتے تا ان پر کوئی ثواب ملے بلکہ تمہارے دل کا تقولی خدا کے حضور پیش ہوتا ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے اور جز انکلتی ہے ان تمام چیزوں کو ہم نے تمہارے لئے مسخر کیا ہے اور پھر ان میں سے بعض کو تمہارے لئے ایک خاص وقت تک کے لئے عزت اور عظمت والا قرار دے دیا چنانچہ ان اونٹنیوں کو یا ان گائیوں کو یا ان بھیٹروں اور بکریوں اور دُنبیوں کو جو قربانی کے لئے جارہی ہوتی ہیں اس وقت سے پہلے کہ ان کو قربان کیا جائے یعنی ان کی قربانی کا وقت آجائے ان کی عزت قائم کی۔پھر بعد میں ان کو ذبح کروا دیا یعنی ایک وقت میں کہا کہ اگر تم ان کی عزت نہیں کرو گے تو میں ناراض ہو جاؤں گا اور دوسرے وقت میں یہ کہا کہ اگر تم ان کو ذبح نہیں کرو گے اور ان کی جان نہیں لو گے تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا۔اور ہمیں بتا یا سخرها لكم ہم نے ان کی اس قسم کی تسخیر کی ہے کہ تمہارے ہاتھ سے ہی ان کی زندگی قائم بھی رکھتے ہیں اور تمہیں یہ بھی کہتے ہیں کہ بُری نگاہ سے ان کی طرف نہ دیکھنا۔گویا ایک زمانہ جانور پر یہ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے ان کی طرف بُری نگاہ سے نہ دیکھنا اور پھر اس پر وہ زمانہ بھی آتا ہے جب خدا تعالیٰ کہتا ہے تم چھری سے ان کو ذبح کر دو پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت تک تمہارے ہی ہاتھ سے میں ان کو زندہ رکھتا ہوں اور پھر تمہارے ہاتھ سے ہی ان کی موت کے سامان پیدا کر دیتا ہوں۔سَخَّرَهَا لَكُمْ اور یہ اس لئے کیا کہ لِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدُ لَكُمْ تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اور اس کا جلال موجزن ہو اور تم خدا تعالیٰ کی حمد کرو کہ کس طرح اس نے ہمیں تمام جھمیلوں سے بچا کر اپنے قدموں پر لا کر بٹھا دیا ہے اور کامل اور حقیقی اور ہمیشہ رہنے والی ہدایت تمہارے ہاتھ میں دی ہے وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِین اور جو حسن تمام اعمال کو حسن کے ساتھ اور توجہ کے ساتھ اور تقویٰ کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ اور قربانی کے جذبات کے ساتھ اور اپنے آپ کو لا کمی محض سمجھنے کے ساتھ کرتے ہیں ان کو بشارتیں دے دو اور چونکہ کبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ میں بشارت کی تعیین نہیں کی اس لئے ہم اس کے یہ معنی کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قسم کی بشارتیں ان کو ملیں گی۔اسی مضمون کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری وصیت میں بیان کیا ہے اور اللہ تعالیٰ