خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1034
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۳۴ خطبہ جمعہ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء کی حرمتوں اور اس کے شعائر کی طرف توجہ دلائی ہے کیونکہ لغت عربی میں شعائر ( جو شعیرہ کی جمع ہے ) کے معنی ہیں کُلُّ مَا جُعِلَ عَلَمَّا لِطَاعَةِ اللهِ یعنی وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لئے بطور نشان قائم کیا جائے اور قرآن کریم کی زبان میں شعیرہ (اس کی جمع شعائر ہے ) کے معنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے نشان کے علاوہ اس نشان کے بھی ہیں جو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی تشریح کرتے ہوئے فرما یا تھا کہ تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں کو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملہ سے قیامت تک کے لئے محفوظ قرار دیا ہے۔دوسرے مذاہب گواصل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی تھے لیکن اب ان کی شکل بدل چکی ہے اور وہ محترف شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ان میں بہت محدود صداقت پائی جاتی تھی اور وہ مختص القوم اور مختص الزمان تھے بعد میں ان میں انسانی ہاتھ نے بڑا رد و بدل کیا اور ان کی شکل کو مسخ کر دیا۔بہر حال جس شکل میں بھی دوسرے مذاہب ہمارے سامنے ہیں۔میں تحدی کے ساتھ کہتا ہوں کہ ان میں سے کسی مذہب نے اپنے مذہب سے باہر والوں کی جان و مال کی حفاظت نہیں کی اور نہ ان کے جذبات کا خیال رکھا ہے نہ ان کی عزتوں کی حرمت کو پہنچانا ہے ان کے مقابلہ میں اسلام میں یہ بڑا حسن پایا جاتا ہے کہ اس نے انسان کی عزت اور اس کی جان اور اس کے مال کی حفاظت کا بیڑا اُٹھایا ہے۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ ایک مسلمان کی ناحق جان نہ لینا ہاں اگر ایک غیر مسلم کی جان نا حق لے لو تو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے قرآن کریم اس قسم کی تعلیم نہیں دیتا ، اسلام یہ نہیں سکھاتا، اسلام تو یہ کہتا ہے کہ کوئی مسلم ہو یا غیر مسلم ، توحید پرست ہو یاد ہر یہ خدا تعالیٰ کو گالیاں نکالنے والا ، انسان ہونے کے لحاظ سے وہ سب برابر ہیں اگر کوئی خدا تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اسے سزا دے گا لیکن تمہارا یہ فرض ہے کہ اس شخص کی بھی جان نہیں لینی ، اس کا مال بھی غصب نہیں کرنا اس کے ساتھ بھی دھوکا کا معاملہ نہیں کرنا، اس کے جذبات کو بھی ٹھیس نہیں لگانی ، اس کی وہ عزت اور احترام کرنا ہے جو انسانیت کی عزت اور احترام ہے اور جسے اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ کہلوایا کہ تم سن رکھو اور اسے یاد رکھو کہ اپنی بیویوں سے ہمیشہ اچھا سلوک کرنا کیونکہ