خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1032
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۳۲ خطبہ جمعہ ۲۶ / دسمبر ۱۹۶۹ء کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اس کے بندے اس کے احکام بجالائیں تو دوسرے ان کے ساتھ تعاون کریں۔تعاون کی آگے پھر کئی شکلیں ہیں میں اس وقت تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔پہلی آیت جو میں نے تلاوت کی ہے وہ تو سورۃ مائدہ کی ہے۔سورہ حج کی آیات میں اس اصول کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ اصل چیز اطاعت ہے۔ہر بندے کے حق کی ادائیگی کی روح اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اگر وہ نہیں تو پھر کوئی ثواب نہیں ہے۔فرما یا وَ مَنْ يُعَظِمْ حُرُمَتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبّیہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ عرب توں کو تعظیم کی نظر سے دیکھے گا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں یہ بڑی محبوب چیز ہوگی۔اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت کرنے لگے گا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ کر دی کہ بکری کی یا بھیڑ کی یاد نبے کی یا گائے کی یا اونٹنی کی اس لئے عزت نہیں کرنی کہ کوئی شرک کا سوال ہے۔گائے کی عزت اس لئے نہیں کرنی کہ ہندوؤں کی طرح یہ سمجھا جائے کہ یہ گاؤ ماتا ہے یا یہ بھی ایک خدا ہے یا جو دوسرے جانور ہیں ان کے ساتھ بھی شرک نہیں آنا چاہیے اسی واسطے یہاں شرک کی نفی کی ہے اور شرک کے خلاف تعلیم دی ہے یعنی جہاں یہ فرما یا کہ وَمَنْ يُعَظِمُ حُرمتِ اللهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّہ اور ساتھ ہی یہ کہہ دیا که فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ یعنی ان کو خدائی نہیں دینی ہاں ان کو خدا تعالیٰ کا مقررہ کردہ عزت اور احترام دینا ہے۔یہاں اس فرق کو نمایاں کر دیا کہ شرک کسی خفیہ راستہ سے بھی انسان کے دل اور دماغ میں گھس کر اسے اندھیرا کرنے کی کوشش نہ کرے اور پھر فرما یا ذُلِكَ وَمَنْ يُعَظِمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی عزت قائم کرتا ہے وہ اس لئے کرتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہے۔وہ شرک کی وجہ سے ایسا نہیں کرتا یا کسی اور سبب سے بھی نہیں کرتا۔اس کو یہ پتہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کی اطاعت میری روح ہے اور میری زندگی ہے۔اس کی اطاعت سے باہر ہو کر نہ میری روح میں وہ حیات جس کے لئے وہ پیدا کی ہے پیدا ہوسکتی ہے اور نہ اسے کوئی بقا مل سکتی ہے کوئی کہہ سکتا ہے کہ روح نے تو باقی رہنا ہے لیکن وہ کیا بقا ہے جس کے متعلق قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ جہنم کے اندر نہ زندہ ہوں گے نہ مردہ ہوں گے اور اسی پر زور دینے کے لئے پھر فرمایا کہ ان کے گوشت اور ان کے