خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 72
خطبات ناصر جلد دوم ۷۲ خطبہ جمعہ ۱۵ مارچ ۱۹۶۸ء ہوں۔ایک بھائی لکھتے ہیں کہ خاکسار نے چند روز ہوئے خواب میں دیکھا کہ میں نہایت ہی پُرزور آواز میں درود شریف پڑھتا ہوں اور ایک شاہراہ پر جا رہا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ اس کے ہر مقام پر انتہائی زور دار آواز سے درودشریف پڑھوں۔اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ پھر میں نے پڑھنا شروع کیا کہتے ہیں کہ جب میں نے ایک عزیز کو قادیان لکھا اس کے متعلق کہ اس طرح میں نے رویا دیکھی ہے۔آپ بھی کثرت سے درود پڑھیں تو ان کی طرف سے جواب آیا کہ میرے اور میری بیوی کے دل میں معا تحریک پیدا ہوئی که در و دشریف بکثرت اور باقاعدہ پڑھنا چاہیے اور ہم درود شریف با قاعدہ ورد کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے کہ آپ کا خط اسی وقت ہمیں موصول ہوا اور وہ جمعہ کا دن تھا تو ہم حیران تھے اور سمجھے کہ یہ تو ار دا لہی تحریک پر مبنی ہے۔ایک اور دوست کو تحریک کرنے پر انہوں نے بتایا کہ میرے تو والد صاحب مرحوم ایک دوست کو خواب میں ملے ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ میں تو یہاں بھی یعنی جنت میں ایک لاکھ مرتبہ روزانہ درود شریف پڑھ رہا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم عاجز بندوں کو اللہ تعالیٰ نے جس راہ پر چلایا ہے وہ شاہراہ غلبہ اسلام کی راہ ہے اور اس راہ پر شیطان پورے زور کے ساتھ اندھیرے پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان اندھیروں سے نجات حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اس راہ کے ہر چپہ کو نورانی کرنے کے لئے اپنے نور کے مینار اس وقت کھڑے کرتا ہے جب بندہ اس کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق اپنے اعمال اور اپنے اذکار کرنے والا ہے۔قرآن کریم کی سورۃ احزاب میں دو مختلف جگہوں میں یہ آیتیں ہیں جن کو میں نے اس وقت اکٹھا تلاوت کیا ہے۔احزاب کی ۴۲، ۴۳ اور ۴۴ آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے یہ فرما یا یا يُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ان تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ وہ مومن بندوں پر بار بار رحم کرتا، رحم کرنے کا ارادہ کرتا اور اس کی خواہش رکھتا ہے لیکن ان بندوں کو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ ظلمات سے نجات حاصل کر کے نور کی فضا میں داخل ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ملائکہ کی