خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 73 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 73

خطبات ناصر جلد دوم ۷۳ خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۶۸ء تائید اور ان کی دعائیں شامل حال ہوں اور ملائکہ کی تائید اور ان کی دعائیں صرف اس وقت شامل حال ہوتی ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہو رہا ہو۔هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول نہ ہو تو ملائکہ کی دعاؤں کو تم حاصل نہیں کر سکتے اور جب تک تم ملائکہ کی دعا اور خدا کی رحمت کو حاصل نہ کرو تم ظلمات سے نجات نہیں پاسکتے اور نور کی دنیا میں داخل نہیں ہو سکتے اس لئے ہم تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ اے میرے بندو! جو میرے اس عظیم ، کامل نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہو کثرت سے اللہ کا ذکر کرو اور صبح و شام کی تسبیح میں مشغول ہو جاؤ۔اسی تعلق میں دوسری جگہ یہ فرما یا إِنَّ اللهَ وَمَليكتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تسلیما یہاں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم پر يُصَلِّى عَلَيْكُمْ کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل نہیں ہوسکتی جب تک تم اس کے محبوب النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والے نہ بنوفرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہر آن اس کامل نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ملائکہ اور اس کے فرشتے اس نبی کے لئے دعاؤں میں مشغول ہیں اور اس کامل نبی کو خدا کی کامل رحمتیں نصیب ہیں اور اس کے ملائکہ کی کامل تائید حاصل ہے اس لئے اے وہ لوگو! جو خدا اور اس کے اس النبی پر ایمان لائے ہو کثرت سے اس پر درود بھیجو اور اس کے لئے دعائیں مانگو اور اس کے لئے سلامتی چاہو جب تم اس پر درود بھیجو گے تو اس کے نتیجہ میں هُوَ الَّذِي يُصَلَّى عَلَيْكُمُ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں تم پر نازل ہوں گی۔پس جب تک ہم کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے نہ ہوں ہر وقت اس کی یاد میں اپنی زندگی کے لمحات نہ گزارنے والے ہوں صبح و شام اس کی تسبیح اور اس کی تحمید کرنے والے نہ ہوں اس کے پاک اور مقدس نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر درود نہ بھیجیں اس وقت تک ہم اس کی تائید، اس کی رحمت اور اس کے فرشتوں کی تائید اور نصرت حاصل نہیں کر سکتے اور جب تک ایسا نہ ہو جائے اس وقت تک شیطانی اندھیروں سے نجات حاصل کر کے اللہ کے نور کی دنیا میں ہم داخل نہیں ہو سکتے۔خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ ایک نہایت ہی اہم اور مقدس فریضہ ہمارے ذمہ لگایا گیا ہے اور وہ اسلام