خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 779 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 779

خطبات ناصر جلد دوم ۷۷۹ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء دلوائیں گے تو اس کے ساتھ ہی انہیں اسلام کی عاید کردہ پابندیوں کو بھی ماننا پڑتا ہے۔لیکن ایک شخص جو شراب پینے کا عادی ہے وہ یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ میں اسلام کے اقتصادی نظام کو جاری کروں گا جب کہ وہ خدا تعالیٰ کی عطا کے ایک حصہ کو خود ہی غلط طور پر استعمال کرنے والا ہے۔اس واسطے ایسے لوگ زبانی طور پر تو اسلام کے اقتصادی نظام کی خوبیوں کو مانتے ہیں لیکن درحقیقت اس پر عمل پیرا ہونے کی طرف آتے ہی نہیں صرف کہہ دیتے ہیں کہ ہاں یہ بڑی اچھی تعلیم ہے ایک ہی بات ہے کوئی نام لے دو یہ اصولی طور پر ایک بات نہیں کیونکہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں نے اسلام کے اقتصادی اصول کو اپنا نا اور جاری کرنا ہے اور ان کے ذریعہ ہر ایک آدمی کے حق کو دینا اور دلانا ہے تو ساتھ ہی اسے اسلام کی عائد کردہ پابندیوں کو قبول کرنے کا بھی اقرار کرنا پڑے گا۔اس کے بغیر حقوق کی کما حقہ ادائیگی ممکن ہی نہیں۔مثلاً اسلام نے یہ پابندی لگائی ہے کہ اسراف نہ کر واب جو شخص خدا تعالیٰ کے کہنے کے مطابق ایک لاکھ روپیہ کسی اور کا زائد اپنے پاس رکھتا ہے اگر وہ اسراف کرتا ہے تو گویا اس نے ایک لاکھ روپیہ کسی غیر کا اسراف کی نذر کر دیا اب وہ یہ حق اصل حق دار کو کیسے پہنچائے گا غرض اسلام یہ کہتا ہے کہ اسراف سے کام نہ لو ورنہ تم وہ حق ادا نہیں کر سکو گے جو میں نے قائم کیا ہے۔اسی طرح اسلام نے یہ بھی کہا ہے کہ بخل نہ کرو کیونکہ اس صورت میں اگر تمہارے پاس روپیہ ہو گا بھی تو تم دوسرے کو دینے سے گھبراؤ گے تمہاری طبیعت دوسرے کو دینے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔پس اسلام نے اسراف سے بھی بچایا اور بخل سے بھی۔افراط سے بھی بچایا اور تفریط سے بھی۔اسلام کے اقتصادی نظام کی رُو سے انسان کی تمام طاقتوں کی بہترین نشوونما کے لئے جو سامان پیدا کئے گئے ہیں ان سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کے لئے جو مال و دولت کسی کو حاصل ہوتی ہے اس کے رکھنے کی اسے صرف اس حد تک اجازت ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہے۔پس یہ حق و حکمت پر مشتمل اقتصادی نظام اس بات کی بھی ضمانت دیتا ہے کہ اے انسان ! میرے دائرہ انتظام کے اندر تجھے امیر کہہ کر کوئی تیرا مال نہیں چھینے گا۔تجھے امیر کہہ کر کوئی تیری جان لینے کے درپے نہیں ہوگا۔تیرے بچوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ نہیں بننے دیا جائے گا۔اسلام کے اقتصادی نظام کی رو سے