خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 774 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 774

خطبات ناصر جلد دوم ۷۷۴ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء پروان چڑھایا ہے کہ تو میرا خدمت گزار بنے اس لحاظ سے ان دونوں مخلوقوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے پس سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ (ابراهيم : ۳۴) کہہ کر اس کا ئنات عالم کی ہر چیز اور ہر مخلوق کو انسان کی خدمت پر لگا دیا۔فرمایا تیری پیدائش کی غرض یہ ہے کہ تو میرا خادم بنے اس لئے جوصفات میرے خادم میں ہونی چاہیں وہ تجھے خود اپنے اندر پیدا کرنی پڑیں گی جو صفات تیرے خادم میں ہونی چاہیے تھیں اور وہ از خود پیدا نہیں کر سکتا تھا اور تو بھی اس میں پیدا نہیں کر سکتا تھا اس کا میں نے انتظام کر دیا ہے۔تیری طاقت سے زیادہ تجھ پر بوجھ نہیں ڈالا لیکن تجھے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ میں نے تجھے اپنا خادم اور اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا اور تیری رہنمائی کی اور پھر تجھے جسمانی، ذہنی ، اخلاقی اور روحانی قوتیں بھی عطا کیں اور ان قوتوں کی نشو و نما کے کمال تک پہنچنے کے سامان بھی مہیا کئے اور ان کو جاننے پہچانے اور ان سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کے جو ذرائع تھے وہ بھی تجھے عطا کئے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تمہیں آسمان اور زمین سے رزق عطا کیا ہے اور تیری سمع اور بصر کے ہم مالک ہیں یعنی ہم نے انہیں پیدا کیا اور جس قسم کی سمع اور بصر ہونی چاہیے تھی وہ سمع اور بصر ہم نے پیدا کی۔سورہ سجدہ کی آیت میں تھا جَعَلَ لَكُمُ السَّبْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَنْدَةَ مَكَر سورۃ یونس کی آیہ کریمہ میں سمع اور بصر کی ایک دوسری خصوصیت کا ذکر کرنے کے لئے جعل کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ فرمایا ہے آمَنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ یعنی اللہ تعالیٰ ہی کان اور آنکھ کا مالک ہے۔سورہ سجدہ کی آیہ شریفہ میں عطا کا ذکر تھا کہ ہم نے یہ یہ سامان پیدا کئے ہیں اور یہ یہ نعمتیں عطا کی ہیں تم ان سے کما حقہ فائدہ اُٹھاؤ اور یہاں اس آیہ کریمہ میں یہ بیان ہوا ہے کہ سمع اور بصر کا استعمال اسی طرح ہونا چاہیے جس طرح ہم نے حکم دیا ہے کیونکہ ہم مالک ہیں تم مالک نہیں ہو۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنا خادم بننے کے لئے پیدا کیا ہے اور اپنے فضل سے ساری دنیا کو تمہاری خدمت پر لگا دیا ہے تا کہ تمہارے قومی کی صحیح نشو نما ہو سکے تمہیں میرا حقیقی عبد بننے کے لئے جس ہدایت ورہنمائی کی ضرورت تھی وہ بھی میں نے نازل کی بنی نوع انسان کی ترقیات کے لئے تازہ بتازہ کلام اُتارا اگر چہ کامل اور مکمل کلام اور کامل اور مکمل وحی کا نزول