خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 719
خطبات ناصر جلد دوم ۷۱۹ خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۶۹ء کرنے والے ہیں ان کے متعلق خود اس منصوبہ کے بانیوں کی یہ باتیں ظاہر ہوگئی ہیں (اگر چہ وہ چاہتے نہیں تھے ) کہ وہ اس قسم کے فلاسفر پیدا کریں گے اور پھر پریس پر تصرف کے نتیجہ میں ان کو بین الاقوامی شہرت دیں گے اور انسان کے دماغ میں غلط نظریات گھسیڑ دیں گے تا کہ انسان کو تباہی کی طرف لے جانے میں وہ کامیاب ہو جائیں۔قرآن کریم میں جو دلائل دیئے گئے ہیں ان کا ایک حصہ تو وہ ہے جن کو ہم علمی اور عقلی دلائل سے موسوم کر سکتے ہیں اور دوسرا حصہ اسلام کے علم اور اس کے نور کا وہ ہے جس کا تعلق آسمانی نشانوں سے ہے پس اسلام کی برتری اور اس کے غلبہ اور استحکام کے لئے اللہ تعالیٰ نے دوسری چیز جو مسلمانوں کو دی ہے وہ آسمانی تائیدات اور آسمانی نشانات ہیں۔ان آسمانی نشانوں کا ایک حصہ علمی ہے قرآن کریم کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ میں كِتَابِ مَكْنُون یعنی چھپی ہوئی کتاب ہوں پس قرآن کریم ایک ہی وقت میں کتاب مبین بھی ہے اور كِتَابِ مَكْنُونُ بھی ہے، کتاب مبین کے حصہ کو تو ہم اپنے مجاہدہ سے سیکھ سکتے ہیں قرآن کریم کی تفاسیر اور کلام کی دوسری کتابوں کو پڑھنے پر اگر انسان پانچ دس، پندرہ گھنٹے روزانہ خرچ کرے تو اگر اللہ تعالیٰ نے اسے ذہن دیا ہے بالکل بھی نہیں ہے تو یہ دلائل سمجھ بھی لے گا ، یاد بھی رکھ سکے گا اور اس کا علم بھی بڑھ جائے گا لیکن اس کے علاوہ قرآنی علوم کے ایک حصہ کا تعلق آسمانی تائیدات سے بھی ہے اور وہ وہ حصہ ہے جسے قرآن کریم نے کتاب مکنون یعنی چھپی ہوئی کتاب ٹھہرایا ہے جس طرح دوسری تائیدات سماویہ کے لئے تزکیہ نفس کی ضرورت ہے اسی طرح اس حصہ قرآن کے علوم کے حصول کے لئے بھی تزکیہ نفس کی ضرورت ہے۔جب انسان ہر قسم کی نفسانی آفات کو کچل کر خدا تعالیٰ کی خاطر پاکیزگی کی راہوں کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے توفیق دیتا ہے کہ وہ ان راہوں پر چل سکے اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ پاکیزہ اور مطہر بن جائے۔پھر ایسے شخص کو ایک تو کتاب مکنون کا حصہ بھی دیا جاتا ہے اور دوسرے معجزات بھی دیئے جاتے ہیں جن کو خوارق کہتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کے اس محبوب بندے اور ایک عام انسان کے ( درمیان ) ایک فرقان ایک امتیاز پیدا کیا جاتا ہے۔