خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 684 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 684

خطبات ناصر جلد دوم ۶۸۴ خطبہ جمعہ ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء قوتوں کا صحیح استعمال کر کے مال کو جمع کر لیا ہے اور بطور خادم کے جمع کیا ہے۔اب میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ میں نے یتامیٰ اور مساکین (یا جن کو ہم سائل اور محروم بھی کہہ دیتے ہیں ) کے حقوق تمہارے مال میں مقرر کئے ہیں اس لئے تو یہ مال ان کے ہاتھوں میں جا کر دے۔غرض ایک امیر کو بھی خادم بنایا اور ایک غریب کو بھی خادم بنایا ہر ایک کو اپنے مقابلہ میں اس کا مقام بتا دیا اور وہ عاجزی کا مقام ہے اور ہر ایک کو کہا کہ دوسرے سے استہز انہیں کرنا ، نفرت نہیں کرنی دشمنی نہیں کرنی ، حقارت سے پیش نہیں آنا ، سب کو اخوت اور ہمدردی اور شفقت اور محبت کے بندھنوں میں باندھ دیا اور کہا کہ جو معاشرہ ہم قائم کرتے ہیں اس میں ہر قوت چھوٹی ہو یا بڑی خادم کی حیثیت رکھتی ہے۔معزز وہی ہے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرے۔نہ سرمایہ داری کی دولت اس کی عزت کا باعث ہے اور نہ کوئی مزدور اور کسان تمسخر اور استہزا کا نشانہ۔دونوں بھائی شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ساتویں بات جو اس اقتصادی نظام میں جو خدا تعالیٰ کی صفات پر مبنی ہے ( میں صفات کو لے رہا ہوں) وہ یہ ہے کہ جو لوگ خود نہیں کما سکتے ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے اس نظام میں نظر آتے ہیں۔مثلاً ایک بچہ ہے وہ خود نہیں کما سکتا اس لئے باپ کو کہا کہ تو نے اس بچہ کا حق ادا کرنا ہے۔بعض ماں باپ عدم تربیت کی وجہ سے بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتے اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم ماں باپ ہیں اس لئے جو چاہیں کریں۔خدا کے نزدیک جو چاہیں کریں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تم ماں باپ ہو بچہ کا فرض ہے کہ وہ ماں باپ کا احترام تمہیں دے اور یہ بچہ ہمارا بچہ ہے تمہارا فرض ہے کہ اس کے حقوق تم ادا کر و یا مثلاً ایک شخص بیمار ہو جاتا ہے۔وہ ایک ہی شخص کمانے والا ہے اور وہ اتنا ہی روز کماتا ہے کہ جس میں اس کا اور اس کے خاندان کا گزارہ ہوتا ہے ایک دن وہ بیمار ہو گیا اسے ملیریا بخار ہو گیا اور وہ دو دن کے لئے مزدوری نہ کر سکا تو اسلام کے اقتصادی نظام میں ان دو دنوں کی اجرت بھی اسے ملے گی کیونکہ کوئی اور شخص اس کے لئے کما رہا ہے اور اس کی ضرورت کو پورا کیا جا رہا ہے۔کسی کی محنت کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوہ کے نتیجہ میں۔