خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 685
خطبات ناصر جلد دوم ۶۸۵ خطبہ جمعہ ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء آٹھویں بات ہمیں اس نظام میں یہ نظر آتی ہے کہ اس نظام میں ہر شخص خدائے رحیم کی رحیمیت کے حسن کا گرویدہ ہے کیونکہ جو مزدوری وہ کرتا ہے اس کے متعلق انتظام کیا گیا ہے کہ اسے اجرت بر وقت ملتی رہے۔اور نویں یہ کہ رب العلمین نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اس نے ہر فرد بشر کی قوت کا دائرہ محدود اور معین کر دیا ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی مزدور سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہیں لیا جا سکتا۔جس طرح کوئی غریب یا مسکین اپنے دائرہ استعداد سے بڑھ کر کوئی مطالبہ نہیں کرسکتا۔اسی طرح کوئی شخص اس کی طاقت اور استعداد سے زیادہ کام نہیں لے سکتا۔(لیکن دائرہ استعداد میں کمال نشو ونما و ارتقا کے سب سامان اس کے لئے فراہم اور مہیا کئے جائیں گے ) کیونکہ یہ ر بوبیت عالمین کے خلاف ہے اور اسلامی اقتصادی نظام اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس لئے کسی سے بھی اس کے دائرہ استعداد سے بڑھ کر کام لینے کی اجازت نہیں۔پس یہ نظام طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔مگر جہاں تک حقیقی ضرورتوں کا سوال ہے وہ سب پوری کی جاتی ہیں۔اس نظام میں اللہ تعالیٰ کے مالک ہونے کے جلوے بھی ہمیں نظر آتے ہیں کوئی شخص اقتصادی لحاظ سے اپنا یا غیر کا حق اسلام کے اقتصادی نظام میں قائم نہیں کرتا بلکہ سارے حقوق خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں مقرر کئے ہیں امیر کے بھی اور غریب کے بھی۔اس نے جائز راستے کمانے کے بھی بتائے اور جائز راستے خرچ کے بھی بتائے۔ناجائز کمائی کے راستوں کو بھی بند کیا اور نا جائز خرچ کے راستوں کو بھی بند کیا۔اسلام کا اقتصادی نظام اللہ تعالیٰ کی مالکیت کو ثابت کرتے ہوئے کسی انسان کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنا یا کسی غیر کا حق قائم کرے بلکہ حقوق کے قیام کا سارے کا سارا حق اللہ تعالیٰ کو دیتا ہے اس لئے باہمی رنجشوں کے پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورہ کیس میں فرمایا ہے۔وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْطْعِمُ مَنْ لَّوْ يَشَاءُ اللَّهُ أَطْعَمَةَ إِنْ اَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ - (ليس : ۴۸) کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے اس سے اگر وہ یہ نتیجہ نکالیں کہ اللہ کی اس عطا کو جس