خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 683 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 683

خطبات ناصر جلد دوم ۶۸۳ خطبہ جمعہ ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء کا اقتصادی نظام اس کی ضرورتوں کو (پورا) کرے گا۔مثلاً ایک شخص کو صرف اتنی طاقت ملی ہے کہ وہ درمیانہ درجہ کی مزدوری کر سکتا ہے اور وہ مزدوری کرتا بھی ہے لیکن صرف اتنے پیسے کماتا ہے کہ جس سے تین آدمیوں کا شریفانہ گزارہ ہو سکے لیکن جہاں اللہ تعالیٰ نے اس کو کمانے کی قوتیں دوسروں کے مقابلہ میں کم دیں اس نے اس کو ایک اور نعمت سے نوازا اور اس کو ایک بچہ کی بجائے آٹھ بچے دے دیئے یا اس کو ایک بچہ دیا جو اتنا ذہین ہے کہ اس کے ذہن کو پوری نشو ونما ہو سکے تو وہ ڈاکٹر عبدالسلام بن سکتا ہے یعنی اپنے علم میں اپنے مضمون میں وہ دنیا کے چوٹی کے دماغوں کا مقابلہ کر سکتا ہے تو ایسے مزدور کو بھی فکر کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے آٹھ بچوں کا پیٹ پالنا بھی اسلام کے اقتصادی نظام کی ذمہ داری ہے اور اس بچہ کی صحیح نشو ونما کر کے اس کی ذہنی طاقت کو اور قوت کو اور استعداد کو اس کے کمال تک پہنچا نا کہ وہ دنیا کے گنتی کے چند سائنس دانوں میں شمار ہونے لگے۔اس کمال تک پہنچانا بھی اسلام کے اقتصادی نظام کی ذمہ داری ہے خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کو ٹھکرا کر خدا تعالیٰ کا ناشکرا بندہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔چھٹے یہ کہ قوتوں اور استعدادوں میں تفاوت رب العلمین نے پیدا کیا ہے اس تفاوت کو تسلیم کرنا بندہ خدا کا کام ہے۔اس کے نتیجہ میں حسد نہیں پیدا ہونا چاہیے اس کے نتیجہ میں نفرت اور بغض نہیں پیدا ہونا چاہیے اس کے نتیجہ میں استہزا اور حقارت کے جذبات نہیں پیدا ہونے چاہئیں کسی دماغ میں یہ پیدا ہو سکتے ہیں اور کسی دماغ میں وہ پیدا ہو سکتے ہیں ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دوسرے کا خادم بنانے کے لئے یہ تفاوت رکھا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عاجزی کے مقام پر لانا تھا۔سرمایہ دار کو بھی اللہ تعالیٰ نے خادم بنا یا اور وہ اس طرح کہ اس کو کہا کہ توان بیکسوں یتامیٰ اور مساکین کے لئے جا کر محنت کر اور پیسے کما کیونکہ جب اس نے پیسے کمائے تو خدا نے یہ نہیں کہا کہ میں نے جو قوت تمہیں دی تھی اس قوت کی وجہ سے تم نے پیسے کمائے ہیں میں نے تمہیں جو ذ ہن دیا تھا اور میں نے تمہیں جو انتظامی قابلیت دی تھی اس کے نتیجہ میں تو لاکھ پتی ہو گیا ہے اس لئے یہ مال تیرا ہے جس طرح تو چاہے اسے خرچ کر۔خدا تعالیٰ نے اسے یہ نہیں کہا بلکہ اس نے اسے یہ کہا کہ میں نے تمہیں جو قو تیں بھی دی تھیں وہ بطور خادم کے دی تھیں تو نے ان