خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 630
خطبات ناصر جلد دوم ۶۳۰ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء معنی، کہ ہر چیز کو خدا کا سمجھ کر ، ہر حق اسی کا تسلیم کرتے ہوئے ، ہر شے خدائی عطا سمجھتے ہوئے جتنی چیز جس جگہ خرچ کرنے کا حکم ہو اور جس قدر اپنے نفس کا یا کسی اور کا حق اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہو اس کے مطابق خرچ کرنا یہ زکوۃ ہے اور یہ بنیادی چیز ہے اور جیسا کہ میں نے کہا ہے اس کا تعلق نمایاں طور پر حقوق العباد سے ہے ،لیکن عبادت کے ہر نقاضے سے اس کا تعلق ہے۔پس فرمایا کہ انسان عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ تم خدائے واحد کی عبادت کرو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ہو کر یعنی ان تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے عبادت کے قرآن کریم میں بیان فرمائے ہیں۔پھر یہ نہیں کہ چند دن ان تقاضوں کو پورا کرو اور پھر چھوڑ دو۔بلکہ حنفاء یعنی ثبات قدم ہونا چاہیے۔اگر تم میرے فضلوں کو حاصل کرنا چاہتے ہوا گر یہ چاہتے ہو کہ تمہارا انجام بخیر ہو تو تمہیں ثابت قدم رہنا پڑے گا۔دوسرے یہ کہ جو روح عبادت ہے اسے زندہ رکھنا پڑے گا اور تم یہ نہیں کر سکتے۔پس دعا کرنی پڑے گی کہ اے خدا! ہماری روح عبادت کو زندہ رکھ اور زندہ رکھنے کی ہمیں تو فیق عطا کر۔پس دو تصو ر ا پنے ذہن میں لاؤ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ بڑی عظمت اور جلال والا ہے اور وہ تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے اور اس کی تمام صفات حسنہ ہر وقت کام کر رہی ہیں۔کسی وقت بھی معطل نہیں ہوتیں اور خدا تعالیٰ کی جو صفات کام کر رہی ہیں ان کے مقابلہ میں جو کوشش آئے گی وہ نا کام ہو جائے گی اور دوسرے یہ تصور کہ میں ذلیل تر اور محض لاشے ہوں جب تک اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تائید حاصل نہ ہو میں کچھ نہیں کر سکتا۔یہ دو تصور اس روح کو بیدار کرتے ہیں اور زندہ رکھتے ہیں اور جب یہ تصور روح کو زندہ کر دیتے ہیں تو اس وقت تین خاصیتیں ایسی روح میں پیدا ہو جاتی ہیں اور ان خاصیتوں کے پیدا ہونے کے بعد ہی دراصل اس عمارت کی تعمیر کی جاسکتی ہے جس کا تعلق عبادت اور اس کے تقاضوں کے ساتھ ہے۔دوسرے فرمایا کہ خالی اس قسم کی دعا نہیں بلکہ یہ تسلیم کرو کہ تمہیں جو بھی میسر آیا ہے۔جو بھی ملا ہے مثلاً تمہاری قوت، تمہاری استعداد یں، تمہار اعلم، تمہاری طاقت ، تمہارا جتھہ، تمہارے خاندان اور تمہارا اثر و رسوخ وغیرہ اور تم جس علاقے میں ہو وہاں کی Mineral Resources یا