خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 631 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 631

خطبات ناصر جلد دوم ۶۳۱ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء دوسرے بہت سے اموال جو مختلف ملکوں یا خطوں میں زراعت یا معدنیات وغیرہ کے نتیجہ میں ملتے ہیں حتی کہ تمہاری زندگی کے سب لمحات یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے۔فرد واحد بھی اس کا مخاطب ہے اور قو میں بھی اس کی مخاطب ہیں اور چونکہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے، ان کی تقسیم ، ان کا مصرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ حقوق کی روشنی میں ہونا چاہیے۔چونکہ ہم تمہیں سونے کی اجازت دیتے ہیں۔اس لئے سولیا کرو اور آرام اور راحت حاصل کیا کرو۔تا کہ تم اگلے دن تازہ دم ہو کر اپنے کام میں لگو۔نفس کے جتنے حقوق ہیں میں سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑا حق انسانی جسم کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جو قو تیں اور استعدادیں دی ہیں وہ اپنے دوسرے ذرائع اس طرح خرچ کرے کہ یہ قوتیں اور استعدادیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور فضل کے نتیجہ میں اپنی کمال تک پہنچ جائیں تا کہ انسانی پیدائش کا مقصد پورا ہو۔ایک مقصد ہے اصولی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا۔ایک مقصد ہے انفرادی، فرد فرد سے تعلق رکھنا ہے کیونکہ تمام نفوس جو پیدا کئے گئے وہ قوتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر تو نہیں۔ہر ایک نے اپنی قوت اور استعداد کے مطابق جسمانی اور دنیوی، روحانی اور اُخروی تیار کرنی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ حقوق قائم کئے اور ہمارے جسم کی بھلائی کے لئے ، ہمارے نفس کی بھلائی کے لئے ، دنیوی ترقی اور روحانی ترقیات کے لئے ہمیں ہزاروں تعلیمات دی ہیں اور کہا ہے کہ یہ تمہارا حق ہے اگر انسان سوچے اور خدا کا شکر گزار بندہ بنے تو خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ میں تمہیں صرف مصیبتوں میں ڈال کر امتحان لینا چاہتا ہوں، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تمہارے حقوق بھی قائم کرتا ہوں تا کہ تم ترقی کرو۔یعنی حقوق ملیں اور اس کا فائدہ بھی اسے حاصل ہو یعنی حق کے ملنے کا وقتی فائدہ بھی اور حق ملنے سے جو شاندار نتیجہ نکلا اس سے ابدی فائدہ بھی حاصل ہو اور یہ کہا کہ تمہارے حق کو قائم کرتا ہوں اور قائم کرنے کے دو فائدے ہوئے ایک تو یہ کہ انسان کے دل سے یہ خوف نکل گیا کہ خدا کی ساری چیزیں ہیں میں کیوں استعمال کروں۔کیوں کھاؤں، میں کیوں پہنوں، میں کیوں مکان بنا کر دھوپ اور بارش سے اپنی حفاظت کروں ، خدا تعالیٰ نے کہا میں تمہارے ان