خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 629
خطبات ناصر جلد دوم ۶۲۹ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء لئے نیند لو تو تمہارا کوئی حق نہیں تھا کہ تم سوتے۔لیکن چونکہ تمہارے جسم کو میں نے اس طرح بنایا ہے کہ تمہارا دل اور تمہارا دماغ اور تمہارا جسم کوفت محسوس کرے گا اور چاہے گا کہ میں نیندلوں اس لئے ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا اور تیرے نفس کا ایک حق یہ ہے کہ جب وہ تھک جائے اور اس کو راحت اور آرام کی ضرورت پڑے تو وہ سو جائے۔پس ہماری زندگی کے سارے لمحات اللہ تعالیٰ کے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے لئے سونے کا حق پیدا کیا اور ہمیں اجازت دی کہ سو جاؤ ورنہ خدا کا مومن بندہ مرجاتا مگر اُونگھتا نہ، اس کو دوسری طرف یہ بھی تو حکم تھا نا ! کہ تَخَلَقُوا بِأَخْلَاقِ الله اور وہ خدا تعالیٰ کی سنت دیکھتا کہ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا دو نوم - (البقرة : ۲۵۶) اور کہتا کہ میں بھی نہیں سوؤں گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے کہا پھر تو اپنی اس زندگی کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔تیرے قومی آہستہ آہستہ کمزور ہوتے چلے جائیں گے۔حالانکہ تیری ذمہ داریاں تو آہستہ آہستہ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔تو انہیں کیسے بنا ہے گا۔پس نیند کا یہ حق قائم کر دیا اور جہاں یہ ذکر ہے کہ وہ زکوۃ دیتے ہیں یا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسلیم کرتے اور ہر چیز کا مصرف اور خرچ خدا کی ہدایت کے مطابق ہو تو صحیح سمجھتے ہیں ورنہ ہمارا اپنا کوئی حق نہیں۔ہمارے ایک بزرگ کے متعلق آتا ہے کہ وہ بڑے قیمتی جیسے پہنا کرتے تھے کسی نے اعتراض کیا تو انہوں نے کہا کہ میں تو مونہہ میں ایک لقمہ بھی نہیں ڈالتا جب تک میرا خدا نہ مجھے کہے کہ تو یہ لقمہ منہ میں ڈال اور کوئی کپڑا نہیں پہنتا جب تک خدا مجھے یہ نہ کہے کہ یہ قیمتی لباس پہن۔دراصل اللہ تعالیٰ ہر بندہ سے اسی طرح مخاطب ہوتا ہے۔کسی سے مخاطب ہوتا ہے ان قائم کردہ حقوق کو دہرانے سے جو قرآن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حدیث میں قائم ہو چکے ہیں اور کسی کے لئے وہ دہراتا نہیں لیکن وہ اپنی جگہ پر قائم ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمسائے کے حقوق، بیوی بچوں کے حقوق ، اقربا کے حقوق ، اہل محلہ کے حقوق، بنی نوع انسان کے حقوق غرض ہر ایک کے حقوق قائم کر دیئے ہیں اور یہ کہا کہ تیرا یہ حق نہیں ہے کہ تو اپنے طور پر کسی کے حقوق قائم کرے۔تو اپنا حق بھی قائم نہیں کر سکتا۔جب تک وہ ہماری طرف سے قائم نہ ہو۔یہ ہیں زکوۃ کے