خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 618
خطبات ناصر جلد دوم ۶۱۸ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء تا کہ رات کے بھوکے معدے کو کچھ کھانے کو ملے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ گھر میں گھر کے کاموں میں گھر والوں کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔اگر خاوند مثلاً برتن دھونے لگ جائے یا اگر انہوں نے کھانا اکٹھے کھانا ہے تو برتن لگائے یا کوئی اور کام کرے یہ بھی ایک تدبیر ہے اور یہ بھی ہے۔ایک تدبیر ہے کہ کھانے کا ایک لقمہ بھی ضائع نہ ہو۔کیونکہ کسی اور بھائی کا اس سے فائدہ ہوسکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی رکابی میں اتنا ہی ڈالو جو ختم کر سکو زیادہ نہ ڈالو۔ہمارے ملک میں یہ بری رسم پیدا ہو گئی ہے کہ بہت سے لوگ جب مہمان ان کے ہاں آئیں وہ ان کی رکابیوں میں اپنی مرضی کے مطابق کھانا انڈیل دیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اس کے نتیجہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کی بے حرمتی ہوگی۔دو سال ہوئے میں راولپنڈی گیا تھا تو وہاں ایک دوست کے ہاں سے دعوت کا کھانا آیا۔میں نے اپنی ضرورت کے مطابق کھانا ڈالا۔ان کی رَبَّةُ البَيْت باہر کھڑی غور سے دیکھ رہی تھیں کہ ہمارا پکا ہوا کھانا پیٹ بھر کر کھاتے ہیں یا پیٹ پھاڑ کر کھاتے ہیں۔ان سے رہا نہ گیا وہ اندر آ گئیں اور کہنے لگیں میں تو بھٹی ہوں میں تو اپنی مرضی کی مقدار آپ کی رکابی میں ڈالوں گی۔میں نے کہا اپنی مرضی پوری کرو کھانا تو میں نے اتنا ہی ہے جتنا میں نے کھانا ہے۔لیکن اس کے نتیجہ میں (وہ کھانا تو شاید ضائع نہیں ہوا ہو گا انہوں نے محبت سے کھا لیا ہو گا ) بعض دفعہ ضائع بھی ہو جاتا ہے۔غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ جو تد بیر بھی تم کرو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو۔اب پلیٹ میں کھانا ڈالنا یہ بھی ایک تدبیر ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اتنا ڈالنا جتنا آدمی کھالے۔دوسروں کے دکھاوے کے لئے ڈالنا یا جتنے کی اسے بھوک ہے اس سے کم ڈالنا تا کہ لوگ سمجھیں کہ بڑا عبادت گزار ہے اور اسے کھانوں سے کوئی رغبت نہیں اور پھر جب علیحدگی میں گئے تو اپنا پیٹ بھر لیا۔یہ خدا کی رضا کے لئے اپنی پلیٹ میں کھانا نہیں ڈالا بلکہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے کے لئے اور اس کی مخلوق کو دھو کہ میں رکھنے کے لئے تھوڑی سی غذا ڈالی گئی یا اپنی امارت کا مظاہرہ کرنے کے لئے مہمانوں کے سامنے ایک ایک قاب لا کر رکھ دیا۔یا فی مہمان ایک دیگ پکوادی یا ایک اونٹ ذبح کر دیا تو وہ تدبیر جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے نہیں۔