خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 612 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 612

خطبات ناصر جلد دوم ۶۱۲ خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء پہنچانے کی تمہیں اجازت ہے زیادہ کی نہیں۔جہاں تک احساسات کو ٹھیس پہنچانے کا سوال ہے انسان کو یہ جرم معاف ہی کر دینا چاہیے میرے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا ہے ورنہ کم از کم میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اگر کوئی میرے جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو میں اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچاؤں۔بہر حال اگر کسی نے کسی سے کوئی برائی کی ہو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کے بدلہ میں اس سے زیادہ برائی نہیں کرنی کیونکہ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ (الشوری: ۴۱) اللہ تعالیٰ ظالم کو پسند نہیں کرتا۔جب اس نے تم پر ظلم کیا تو اللہ تعالیٰ کی نفرت کی نگاہ اس پر پڑی۔اگر تم بدلہ لیتے ہوئے خود ظالم بن جاؤ گے تو خدا کی نفرت کے مستحق ہو گے اس کے پیار کے مستحق نہیں ہو گے تو جَزْوا سَيِّئَةٍ سَيْئَةٌ مِثْلُهَا جتنا کسی نے ظلم کیا ہے اس سے زیادہ کا تمہیں حق نہیں۔تمہیں بدلہ لینے کا زیادہ سے زیادہ جو حق دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تم نے برائی کے مطابق بدلہ لینا ہے کیونکہ اگر تم نے زیادتی کی تم نے تعدی کی ، تو تم یاد رکھو کہ جو سلوک خدا کا ظالم کے ساتھ ہوگا وہی سلوک تمہارے ساتھ ہوگا۔اِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ اور یہ سلوک محبت کا نہیں ہوگا نفرت کا ہوگا۔یہ تو زیادہ سے زیادہ بدلہ لینے کا حق ہے جو تمہیں دیا گیا ہے لیکن اگر تم اپنے پیدا کرنے والے اور پیارے رب کی عبادت کا حق ادا کرنا چاہتے ہو تو فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (الشوری: ۴۱) تمہارے لئے یہ اجازت ضرور ہے کہ تم انتقام لینا چاہو تو برائی کے مطابق برائی کر سکتے ہو لیکن تمہارا یہ نظریہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی چونکہ میرے ساتھ لڑائی ہوگئی ہے اس لئے میں اب بغیر بدلہ لئے نہیں چھوڑوں گا۔یہ کام ایک مسلمان کا کام نہیں قرآن کریم یہی کہتا ہے۔ویسے اللہ تعالیٰ نے جذبات کو ٹھنڈا کر دینے کے لئے بڑی عجیب تعلیم دی ہے اس نے انسان کے خیالات کو بدل دیا ہے۔ہمارے زمیندار بھائی پانی کے کھال پر لڑ پڑتے ہیں۔ایک زمیندار دوسرے زمیندار کی دوفٹ زمین لے لیتا ہے اور بڑا خوش ہوتا ہے اور دوسرا وہ دوفٹ زمین واپس لینے کے لئے بعض اوقات پہلے کوقتل کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم تمہیں ایک۔اصول بتا دیتے ہیں تم اس کی روشنی میں بدلہ لے سکتے ہو اور وہ یہ ہے کہ تم اپنے نفس کو بھول جاؤ تم