خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 613
خطبات ناصر جلد دوم ۶۱۳ خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء یہ نہ سوچو کہ مجھ پر ظلم ہوا ہے اور میرا ایک حق چھینا گیا مجھے وہ حق واپس ملنا چاہیے۔تم یہ سوچو کہ میرا ایک بھائی ظالم بنا۔خدا تعالیٰ کی ناراضگی اس نے مول لی مجھے اس کی فکر کرنی چاہیے۔اسے خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچانے کے سامان کرنے چاہئیں۔اگر تم فوراً یہ بات سوچو گے تو تمہاری طبیعت کا جوش جاتا رہے گا۔تمہارے جذبات ٹھنڈے ہو جا ئیں گے پھر تم یہ سوچو کہ بدلہ لینے کا جتنا حق تمہیں دیا گیا ہے وہ حق لینے سے اس کی اصلاح ہوتی ہے یا نہیں۔اگر وہ حق لینے سے اس کی اصلاح ہوتی ہے تو وہ حق تم اس نیت سے نہ لو کہ تمہیں مثلاً پانچ سوروپے مل جائیں گے بلکہ اس نیت سے لو کہ پانچ سو روپیہ کی وجہ سے اس کی اصلاح ہو جائے گی اور پھر اگر تم یہ سمجھو کہ اگر اس سے میں نے وہ حق واپس لیا جو اس نے مجھ سے چھینا ہے تو وہ اپنے رب سے اور بھی دُور ہو جائے گا اس کی ذہنیت ہی اس قسم کی ہے تو تم اپنے دل میں یہ کہو کہ میں اپنے بھائی کی خاطر اس لئے کہ وہ کہیں خدا سے اور بھی زیادہ دور نہ ہو جائے اور اس سے بعد کی راہوں کو وہ اختیار نہ کرے اپنے پانچ سو روپے چھوڑتا ہوں یہ رقم میری نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔خدا تعالیٰ کے خزانے بھرے ہوئے ہیں وہ مجھے اس کا بدلہ دے گا اور خدا کہتا ہے فاجره علی اللہ میں اس بات کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ میں تمہیں اس کا بدلہ دوں گا۔غرض ایک ہی فقرہ میں اللہ تعالیٰ نے حق چھڑوا بھی دیا اور حق سے زیادہ دے بھی دیا اس نے کہا اگر اصلاح کا امکان ہو تو اپنا حق چھوڑ دو اور گھبراؤ نہیں تمہارے پانچ سو یا ہزار روپے جو ضائع ہوئے ہیں یا کوئی اور نقصان پہنچا ہے فاجرہ علی اللہ میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ تمہارا نقصان پورا کر دوں یہ غریب انسان ( اور خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں دنیا کی ساری دولت بھی کسی کے پاس ہو تو وہ غریب ہی ہے ) ہمیں کیا دے سکتا ہے۔اس غنی نے تو ہم سے یہ وعدہ کر لیا کہ تم اس کی اصلاح کے لئے اپنا حق چھوڑو گے تو میں اپنی وسیع رحمت کے نتیجہ میں تمہیں بدلہ دوں گا تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔پس میں نے بتایا ہے کہ جزا لینے اور جزا دینے کے متعلق قرآن کریم نے بعض احکام دیئے ہیں جو اصولی ہیں تفصیلی نہیں اور جہاں کسی پر ظلم ہوا ہے تو اس ظلم کا بدلہ لینے یا خدا تعالیٰ کی رضا کی