خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 611
خطبات ناصر جلد دوم ۶۱۱ خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء میں تمہارا دعوی سچا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کر رہے ہو لیکن اگر تم نے وہ احسان خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے نہیں کیا تو تم نے خدا کی عبادت نہیں کی۔تم اس دعوئی میں جھوٹے ہو کہ تم مشرک نہیں ہو بلکہ تو حید خالص پر قائم ہو۔غرض یہ جزا لینے کے متعلق اصولی تعلیم تھی۔جس شخص پر احسان ہوا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ایک اور زاویہ نگاہ سے مخاطب کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن: ۶۱) کہ کیا احسان کا بدلہ اور احسان کی جزا احسان کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتی ہے۔یعنی جس شخص نے حسن سلوک کیا اس کو تو یہ کہا کہ تم نے بدلہ میں احسان کی توقع نہیں رکھنی کیونکہ تم نے جو کچھ کیا ہے میری خاطر کیا ہے اور جس کے ساتھ حسن سلوک ہوا تھا جس کی خاطر اس نے دکھ اُٹھائے تھے جس کی خدمت کی گئی تھی اس کو یہ کہا کہ اگر تم میری سچی پرستش کرنا چاہتے ہو تو یہ یاد رکھو۔مَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ اگر تم اپنے خدمت گزار بندوں ، اپنے پیار کرنے والے بھائیوں کی جو تمہاری خاطر دکھ اُٹھاتے ہیں اسی طرح خدمت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گے ( جب بھی اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے ) اور تمہارے دل میں شکر کے جذبات نہیں ہوں گے تو تم نے خدا تعالیٰ کی پرستش کا حق ادا نہیں کیا۔اگر تم تو حید خالص پر قائم رہنا چاہتے ہو اور اس حکم کی تعمیل کرنا چاہتے ہو کہ وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ تو تمہارا فرض ہے کہ جب کوئی بھائی تم سے محبت اور پیار کا اور احسان اور ایتائے ذی القربیٰ کا سلوک کرے تو تم اس کے مقابلہ میں اپنی قوت اور استعداد کے مطابق اس سے بڑھ کر سلوک کرنے کی کوشش کرو اور اس کے لئے اپنے دل میں انتہائی شکر کے جذبات پیدا کرو۔شکر کے جذبات پیدا کرو۔یہ تعلیم تو احسان کا بدلہ لینے اور دینے سے متعلق تھی۔جزا اور سزا کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی نے کسی کو دکھ پہنچایا ہوتو اس کے متعلق بھی جزا اور بدلہ کا سوال ہوتا ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے جو بنیادی حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ جزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشورى: ۴۱) یعنی جتنی کسی نے بدی کی ہے جتنا دکھ کسی نے پہنچایا ہے جتنا ظلم کسی نے کیا ہے جتنا مال کسی نے غصب کیا ہے اس سے زیادہ اسے نقصان نہ پہنچاؤ، جتنی تھیں احساسات کو کسی نے پہنچائی ہے اتنی تھیں