خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 29
خطبات ناصر جلد دوم ۲۹ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۶۸ء رہتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ ربنا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا اس میں اس طرف بھی اشارہ کیا کہ کبھی سے بچنے اور ہدایت پر قائم رہنے کے لئے جن ہدایتوں کی ، جن تعلیمات کی ضرورت ہے وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔پس ایسے مواقع کے لئے جو دعائیں قرآن کریم نے سکھائی ہیں جو طریق اس نے بتائے ہیں جو تعلیمیں اس نے دی ہیں ان سے فائدہ اُٹھاؤ اور دعاؤں کے ذریعہ اور تدبیر کے ذریعہ یہ کوشش کرو کہ ہدایت پانے کے بعد پھر پاؤں نہ پھسلے اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت میں داخل ہونے کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ رضا کی ان جنتوں سے نکال دئے جاؤ۔پس تربیت کا ایک محاذ تو یہ ہے ساری جماعت کو اس طرف متوجہ رہنا چاہیے کہ ایک دوسرے کے ممد اور معاون اور ناصر بن کر ایک دوسرے کو لغزشوں سے بچا ئیں اور اس طرف متوجہ کرتے رہیں کہ دیکھنا کسی موقع پر بھی کبر اور نخوت اور غرور اور اباء اور استکبار تمہارے اندر نہ پیدا ہو جائے عاجزی کے ساتھ اور نیستی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزارو یہ ایک پہلو ہے تربیت کا اور دوسرا پہلو جو ہے وہ نئے داخل ہونے والوں یا نئے پیدا ہونے والوں کا محاذ ہے جب ایک کام ایک لمبے زمانہ پر ممتد ہو تو ضروری ہوتا ہے کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل کی صحیح تربیت کی جاتی رہے تو دوسرا پہلو تربیت کا اطفال کی تربیت، نئے داخل ہونے والوں کی تربیت ہے (اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاؤں گا) بہر حال هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں ایک تو یہ فرمایا کہ ہدایت پا جانے کے بعد بھی تمہیں ہدایت پر قائم رہنے کے لئے ایک ہدایت کی ضرورت ہے اور وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے اور دوسرے اللہ تعالیٰ نے اشارہ یہ فرمایا کہ قرآن کریم ہدایت کا سامان اپنے اندر رکھتا ہے ( دوسری جگہ بڑی وضاحت سے اسے بیان کیا ہے ) اور اشارہ بتایا گیا ہے کہ جو ہدایت یافتہ نہ ہوں بڑے ہوں ، شعور رکھنے والے ہوں لیکن ابھی ان پر اسلام کی حقیقت واضح نہ ہوئی ہو یا بچپن سے بڑے ہو رہے ہوں اور ابھی اس قسم کا شعور ان میں پیدا نہ ہوا ہو جو بھی صورت ہو نئے سرے سے ہدایت دینے کے سامان قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اور قرآن کریم نے بڑا زور دیا ہے کہ تربیت کے اس پہلو کوبھی ہمیشہ مدنظر رکھو اور اس میں کبھی غفلت سے کام نہ لو۔