خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 30
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۶۸ء دوسرا محاذ جہاں ہمیں چوکس رہنا چاہیے اور اس کی طرف سورۃ بقرہ کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں متوجہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقین کے مضمون کے متعلق آیات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (البقرة : ) که ۷) ایک دوسری جماعت یا دوسرا گروہ وہ ہے (اس کامل کتاب کے نزول کے بعد ) کہ جن کے دل اور۔دماغ اور روح کی کیفیت یہ ہے کہ تم انہیں انذاری پیشگوئیاں بتا کر انذار کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہوگا۔وہ اس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم نبی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شکل میں دنیا کی طرف بھیج دیا ہے اور قیامت تک دنیا کی قسمت کو آپ کے پاک وجود کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے اور جو شخص آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا وہ اس دنیا میں بھی اور آنے والی دنیا میں بھی گھاٹے میں رہتا اور خسران پانے والا ہے تو جب تک ان کے ذہنوں کی یہ کیفیت رہے کہ تمہارا ڈرانا نہ ڈرانا ان کے لئے برابر ہی ہو تو اس وقت تک وہ ایمان کیسے لا سکتے ہیں اس لئے تم پر یہ فرض عائد کیا جاتا ہے کہ تم ان کے ذہنوں کی اس کیفیت کو بدلنے کی کوشش کرو اس کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے بڑی تفصیل سے قرآن کریم میں ہدا یتیں دی ہیں ہمیں یہ کہا ہے کہ تمہارے دل میں ایسے لوگوں کے لئے رحم کا جذبہ اس شدت کا پیدا ہو جائے کہ تم ہر وقت ان کے لئے دعائیں کرتے رہو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے رہے ہیں اس کی آواز پر لبیک نہیں کہہ رہے ایک جہنم اپنے لئے پیدا کر رہے ہیں اے خدا! تو اپنے ان بندوں کو اس جہنم سے نجات دلا ان کی آنکھیں کھول ان کے دلوں کی اس کیفیت کو بدل دے۔اس کے متعلق جیسا کہ میں نے بتایا ہے بڑی تفصیل سے قرآن کریم نے ہدایتیں ہمیں دی ہیں۔جَادِلُهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل : ۱۲۶) کہہ کے عملی نمونہ دکھاؤ وغیرہ وغیرہ سینکڑوں ہدا یتیں ہمیں دی گئی ہیں اس محاذ پر بھی ہمیں ہر وقت چوکنا رہنا چاہیے۔اس وقت اسلام پر سب سے زبر دست حملہ عیسائیت کر رہی ہے اور دوسرے نمبر پر دہریت یعنی وہ جو خدا کے وجود سے ہی انکار کر رہے ہیں عیسائیت کو یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ بیسویں صدی کے