خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 28 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 28

خطبات ناصر جلد دوم اور سچا مسلمان بنانے کی کوشش کرنا۔۲۸ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۶۸ء اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کتاب هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ہے اس میں اس طرف اشارہ کیا کہ تقویٰ کے بلند مقام پر پہنچنے کے باوجود انسان کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی ضرورت رہتی ہے اور اس ضرورت کو یہ قرآن پورا کر رہا ہے۔متقیوں کے لئے ہدایت کا سامان اس کے اندر پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو دعائیہ الفاظ میں دوسری جگہ اس طرح بیان کیا ہے کہ ربنا لا تزغ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا کہ ہدایت تیرے فضل سے ہمیں حاصل ہو جائے پھر بھی یہ خطرہ لاحق رہے گا کہ ہمارے دلوں میں کسی قسم کی کجی نہ پیدا ہو جائے۔پس ہم تیرے حضور عاجزانہ دعا کے ذریعہ جھکتے ہیں اور یہ التجا کرتے ہیں کہ جب ہمیں ہدایت حاصل ہو جائے ،صراط مستقیم ہمیں مل جائے ، ہمارے دل سیدھے ہو جائیں، تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کوئی کبھی نہ پیدا ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی خطرہ کی طرف بار ہا متوجہ کیا ہے میں ایک مختصر سا اقتباس اس وقت دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں آپ فرماتے ہیں :۔بعض ایسے بھی ہیں کہ اوّل اُن میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب ان پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی بلکہ صرف بلعم کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ منہ سے اُکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دیئے جائیں۔وہ تھک گئے اور درماندہ ہو گئے اور نا بکار دنیا نے اپنے دام تزویر کے نیچے انہیں دبا لیا۔سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دیئے جائیں گے۔بجز اس شخص کے کہ خدا تعالیٰ کا فضل نئے سرے اس کا ہاتھ پکڑ لیوے۔ایسے بھی بہت ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے مجھے دیا ہے اور وہ میرے درخت وجود کی سرسبز شاخیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان الفاظ میں اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ ہدایت پالینے کے بعد اس وہم میں مبتلا ہو جانا کہ اب ہمارے لئے ابتلا آ ہی نہیں سکتا اور شیطان کا ہم پر کامیاب وار ممکن ہی نہیں یہ غلط ہے متقی بن جانے کے بعد بھی انسان کو ہدایت کی ضرورت