خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 329 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 329

خطبات ناصر جلد دوم ۳۲۹ خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۶۸ء دوستوں کو چاہیے کہ وہ کثرت سے اور التزام کے ساتھ دعائیں کریں تا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آجائیں خطبه جمعه فرموده ۴ اکتوبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مندرجہ ذیل الہامی دعا پڑھی۔رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرْنَا وَارْحَمْنَا اس کے بعد فرمایا:۔اے میرے رب ! ہر چیز تیری خدمت گزار ہے وہ تیرے قانون تسخیر کے ماتحت اس کام میں لگی ہوئی ہے جس پر تو نے اسے لگایا ہے اور ہماری عین یقین نے دیکھا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز تو نے ہماری خدمت پر مسخر کی ہوئی ہے اور تو نے اپنی ساری نعمتیں (ظاہری و باطنی ) ہم پر پانی کی طرح بہادی ہیں ہمارے نفس اور ہماری روح تیرے احسانوں اور فضلوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔شکر نعمت تو ممکن نہیں مگر اے ہمارے رب ، ہمارے محبوب ! ہم بھی تیرے عاشق ، خادم ہیں اپنے خادموں کی التجا کوسن رَبِّ فَاحْفَظْنَا اے ہمارے رب ! ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے ہمیں ضائع ہونے سے بچالے ہمارے اعمال ، بدیوں، کمزوریوں، بداخلاقیوں،فسق و فجور سے ضائع نہ ہو جائیں طاغوتی طاقتیں ہم پر کامیاب وار نہ کر سکیں تیرے پیار کی راہوں سے ہم