خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 327 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 327

خطبات ناصر جلد دوم ۳۲۷ خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۶۸ء باہر نہ نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اُمت مسلمہ کے لئے استغفار میں مشغول ہو جاؤ اور مومنوں کو یہ کہا کہ ایک دوسرے کے لئے استغفار کرو اور ساتھ ہی ان کو یہ بھی کہا کہ صرف تمہاری استغفار کافی نہیں جب تک تم دو شرطوں کو پورا نہ کرو ایک شرط یہ کہ استغفار اس رنگ میں کرو جس رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں بتایا ہے اپنی طرف سے استغفار کے طریقے ایجاد کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ جو طریقے استغفار کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں انہی طریقوں سے تم استغفار کرو اور دوسری شرط یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تمہارے لئے استغفار کر رہے ہوں اگر تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریق پر استغفار کرو گے اور تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مستحق ٹھہرو گے تو اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت کی چادر میں تمہیں لپیٹ دے گا اور تم انفرادی حیثیت میں بھی اور اجتماعی حیثیت میں بھی گناہ کے وقوعہ کے بعد یا گناہ کے وقوعہ سے پہلے اس کے امکان اور امکانی مضرتوں سے محفوظ کر دیئے جاؤ گے۔پس اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ یا جماعت مومنین کا ایک عظیم وجود پیدا کیا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پر ایک موت کو وارد کیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ایک نئی زندگی اپنے رب سے پائی یہ وہ لوگ ہیں جن کو ابدی حیات ملی ، یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی کا مدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پر ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے سینوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا دل دھڑک رہا ہے جن کی زبانوں پر وہی آتا ہے جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہو، جن کی آنکھیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کے نور سے منور ہیں جن کے ہاتھ جن کے پاؤں اور جن کے جوارح وہ ہیں جو خدا تعالیٰ نے اس نئی زندگی کے بعد انہیں عطا کئے ہیں اور وہ تمثیلی زبان میں اللہ ہی کے ہاتھ اور اللہ ہی کے پاؤں اور اللہ ہی کی آنکھیں اور اللہ ہی کے جوارح ہیں۔۔غرض یہ ایک عظیم وجود پیدا کیا گیا ہے اور جو شخص اس وجود سے خود کو منقطع سمجھتا ہے اور اپنے اندر کوئی ذاتی خوبی اور بڑائی سمجھتا ہے وہ خدا کی نگاہ میں ایک دھتکارا ہوا وجود ہے کیونکہ