خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 183 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 183

خطبات ناصر جلد دوم ۱۸۳ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء تجربہ کی وجہ سے جو علم اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیا اور جس تجربہ کے حصول کی اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق دی تجارت میں مہارت حاصل کر چکا ہے اور وہ دولت کما رہا ہے وہ تمام تجارتی اصول سامنے رکھ کے تجارتی معاملات کرتا ہے اور پھر دعائیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو سنتا اور اس کی عقل اور فراست کو روشن رکھتا ہے اور سیدھا راستہ اس کو دکھا دیتا ہے اور بڑا مالدار ہو جاتا ہے ایک دوسرا شخص مالدار ہونے کے لئے چوری کرتا ہے اور دنیا میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ مبالغہ نہیں ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ پچاس فیصدی چور یقیناً ایسے ہیں جو پکڑے نہیں جاتے اور چوری کے مال سے وہ فائدہ اُٹھا ر ہے ہیں تو وہ بھی ایک راستہ تھا مال کے حصول کا جو اختیار کیا گیا اور کامیابی سے اختیار کیا گیا بظاہر۔دنیا دار جو ہے وہ دنیوی نقطۂ نگاہ سے جب دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہ بھی مال دار ہے ایک شخص کہتا ہے کہ تم کہتے ہو سیدھا راستہ اختیار کرو اپنے ملک کی حالت دیکھو کتنے ہیں جنہوں نے بلیک مارکیٹنگ کے نتیجے میں اور بدیانتی کے نتیجہ میں مال کو جمع کر لیا ہے اور اب دنیا میں ان کی بڑی عزت ہے۔تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ سیدھے راستے سے اگر تم وہ چیز حاصل کرو گے جو کرنا چاہتے ہود نیوی مال تو ایک نعمت ہے نا! دنیا میں ہزاروں نعمتیں ہیں اگر سید ھے راستے پر چل کے تم اپنے - مقصد کو حاصل کرو گے تو یہ تو ہو گا انعام اللہ کی طرف سے۔اور اگر غلط راستہ اختیار کرو گے تو وہ انعام نہیں ہوگا اس کے ساتھ سزا لگی ہوئی ہے اس دنیا میں بھی سزا ملتی ہے جب چور پکڑا جاتا ہے۔جب بددیانت پکڑا جاتا ہے۔جب بلیک مارکیٹ کرنے والا پکڑا جاتا ہے اور یہ گرفت کئی قسم کی ہوتی ہے کبھی اللہ تعالیٰ آسمان سے گرفت نازل کرتا ہے مثلاً بڑا مال کمالیا اور کھانا ہضم نہیں ہوتا۔کئی ایسے بھی ہم نے دیکھے ہیں بڑے امیر ہیں امارت پیسہ جو ہے مال جو ہے اس کا ایک خرچ یہ ہے کہ زبان کا چسکا جو ہے وہ پورا کیا جائے لیکن وہ شخص کھا ہی نہیں سکتا پیسے رکھے ہوئے ہیں اس کے اردگر دلوگ کھا رہے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ میں تو مصیبت میں پھنسا ہوں کھا ہی کچھ نہیں سکتا ہضم نہیں ہوتا بیمار ہوجاتا ہوں جب بھی کوئی ثقیل چیز کھالوں۔پر ہیزی کھانا کھا رہے ہیں لاکھوں روپیہ تجوری میں ہے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے جسم میں ، جلد میں ایسی بیماری پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ بہن نہیں سکتے اچھا کپڑا۔اب وہ دھوتی پہنی ہوئی ہے پھر رہے ہیں پیسہ بڑا ہے دل کرتا ہے کہ پانچ سو روپیہ گز