خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 182 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 182

خطبات ناصر جلد دوم ۱۸۲ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء کتب میں پائی نہیں جاتیں آپ ہی گھسیڑ دی ہیں جیسا مثلاً پادری عمادالدین ہے جب سرسید نے دعا کے خلاف اپنے رسالے کچھ لکھنے شروع کئے تو یہ پادری عمادالدین جو دراصل ”مولانا عمادالدین تھے اجمیر کی شاہی مسجد کے خطیب اور بڑا عالم آدمی ہے جہاں تک دنیوی ظاہری اسلامی علوم کا تعلق ہے یعنی قرآن کریم کی جو تفاسیر چھپ چکی ہیں جو دوسری کتب ان پر اس کو عبور تھا میں نے ایک دفعہ دعا کے سلسلہ میں مجھے خیال آیا کہ دیکھیں کہ اس نے کیا لکھا ہے۔اس نے سرسید کا رڈلکھا ہے۔عیسائی نے۔اس طرف دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو پکڑا اور نہایت لطیف پیرایہ میں اور زور دار الفاظ میں ایسے تمام مسلمانوں کی ہدایت کا سامان پیدا کیا جو دعا کے مفہوم کو اور دعا کے مقام کو پہچانتے نہیں تھے۔ادھر اس نے لکھا۔میرے دل میں شوق پیدا ہوا میں نے جب کتاب پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ تمام باتیں جو اسلام میں رہتے ہوئے اسلامی کتب سے اس نے سیکھی تھیں وہ عیسائیت کے منہ میں ڈال دیں یعنی تو رات کا کوئی حوالہ نہیں بلکہ یہ کہ عیسائیت یوں کہتی ہے حالانکہ عیسائیت نہیں کہتی وہ قرآن یوں کہتا ہے عیسائیت یوں کہتی ہے عیسائیت یوں نہیں کہتی بلکہ قرآن کریم کے ایک مفسر نے جو تفسیر بیان کی ہے یہ عیسائیت کے منہ میں ٹھونستا چلا گیا ہے تو یا تو ان کا جواب ہمارے مقابلہ میں اس قسم کا ہو گا تو ہمیں ثابت کرنا پڑے گا کہ تم جو بات تو رات کی طرف منسوب کر رہے ہو وہ تو رات کی طرف منسوب نہیں ہوتی تو رات (میں) ایسا کوئی مضمون نہیں بیان ہوا یا یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ تورات سے ہی تم نے استدلال کیا لیکن عقلاً اور روحانی مشاہدہ کی رو سے یہ بڑی ناقص تعلیم ہے اور سوہ فاتحہ کی تعلیم کے مقابلہ میں پیش نہیں کی جاسکتی۔سورہ فاتحہ میں اس سے بہتر تعلیم ہے تو اس سورۃ میں جو بڑے وسیع اور بڑے گہرے اور بڑے حسین مضامین اپنے اندر لئے ہوئے ہے اس میں ایک آیت یہ بھی ہے۔اهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة : ٦ ٧) اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان کیا ہے کہ ہر چیز کے حصول کا ایک صحیح راستہ ہے اور اسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے بہت سے غلط راستوں پر بھی چلے جاتے ہیں مثلاً ایک موٹی مثال ہے ایک شخص اپنے اس علم کی وجہ سے اور اس