خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 184
خطبات ناصر جلد دوم ۱۸۴ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء والا کپڑا خرید کے سوٹ بنائیں لیکن وہ پہن ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگئے ہیں ہزاروں مثالیں اس قسم کی دی جا سکتی ہیں بعض کو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ پکڑ لیتا ہے بعض کو اُخروی زندگی میں پکڑ لیتا ہے بعض کو میں اس لئے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تو مالک ہے کسی کو معاف کر دے تو یہ بھی اس کی شان میں ہے اس کی صفات کی شان کے عین مطابق ہوگا لیکن بعض کے متعلق یقیناً اس نے کہا ہے کہ میں گرفت کروں گا اس واسطے انسان کو مطمئن نہیں رہنا چاہیے تو یہاں یہ فرمایا کہ ہر چیز کے حصول کے لئے ایک سیدھی راہ ہے یا ایک سے زائد بھی بعض دفعہ ہوسکتی ہیں اگر زیادہ وسعت والا مضمون ہمارے ذہن میں ہو مثلاً قرب الہی کے ایک سے زائد رستے ہیں مثلاً جنت کے سات دروازے ہیں جن کا مطلب ہے سات را ہیں جنت کی طرف جا رہی ہیں لیکن اس دنیا میں عام طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اچھے مقاصد کے حصول کے لئے ایک سیدھی راہ ہے اس راہ پر اگر انسان چلے تو اسے یہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ صِرَاطَ الَّذِینَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یہ ہر سیدھی راہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا انعام اس کا منتظر ہوتا ہے اگر وہ سیدھی راہ پر نہیں چلتا تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اس کا انتظار کر رہی ہو کیونکہ مغفرت کے اوپر انسان کی تو کوئی اجارہ داری نہیں نا! لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کا عذاب ، اس کا قہر، اس کا غضب، اس کا انتظار کر رہا ہو اس کو وعدہ یہ نہیں ہے کہ تمہیں انعام ملے گا۔انعام مل جائے تو اور چیز ہے ایسی بات ہے کہ بادشاہ وقت دس آدمیوں کو دعوت پر بلاتا ہے دعوت پہ جب وہ بلاتا ہے تو ان سے یہ وعدہ ہے کہ میں یہ کھا نا تمہیں کھلاؤں گا اپنے ساتھ بٹھا کر۔اور تمہارا اکرام کروں گا۔تمہارا احترام کروں گا جو مہمان کا ہونا چاہیے۔ایک گیارھواں شخص ویسے ہی چلا جاتا ہے وہاں۔اب ضروری نہیں کہ اس کو اندر بلا لیا جائے۔ہوسکتا ہے کہ بادشاہ کہے کہ چلو آ گیا ہے تو میں اس کو بھی بلا لیتا ہوں اور ہو سکتا ہے کہ وہ کہے کہ دوڑ جاؤ یہاں سے ابھی دوڑنے والا لطیفہ میں آپ کو سنا دیتا ہوں ہمارے الحاج گورنر جنرل گیمبیا کے دورہ پر گئے سینی گال کے تو وہاں چونکہ جماعتیں چھوٹی ہیں اور کچھ تعصب بھی ہے کچھ نا واقفیت بھی ہے کچھ پرانے رواج بھی ہیں ان کو خیال پیدا ہوا میں ہیڈ آف دی سٹیسٹ کی حیثیت میں اس ملک میں جارہا ہوں بڑا احترام کریں گے ممکن ہے اپنی وہاں کے لحاظ سے ہمارے محاورہ ہے شاہی مسجد وہ شاہی مسجد کہلائے یا نہ کہلائے۔